13سالہ اندھیر نگری اور لوٹ مار کا حساب شروع، ثمر ہارون بلور کا محکمہ ریلیف میں پی ٹی آئی دور کی تمام بھرتیوں اور فنڈز کا مکمل ریکارڈ طلب کرنے کا ہنگامی حکم
Home - آزاد انتخاب - 13سالہ اندھیر نگری اور لوٹ مار کا حساب شروع، ثمر ہارون بلور کا محکمہ ریلیف میں پی ٹی آئی دور کی تمام بھرتیوں اور فنڈز کا مکمل ریکارڈ طلب کرنے کا ہنگامی حکم
گورنر خیبرپختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ریلیف بحالی و آبادکاری ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف میں گزشتہ 13 سال کے دوران ہونے والی تمام بھرتیوں مختص بجٹ فنڈز کے اجرا و استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام مالی انتظامی اور ترقیاتی امور کی تفصیلات شفاف اور قابلِ تصدیق انداز میں مرتب کرکے پیش کی جائیں۔
مشیر برائے ریلیف ثمر ہارون بلور کی زیرِ صدارت محکمہ ریلیف بحالی و آبادکاری کا تعارفی اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ اور اس کے ملحقہ اداروں کی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے، قواعد و ضوابط اور اصلاحاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری ریلیف یوسف رحیم نے محکمہ کے انتظامی ڈھانچے، ذمہ داریوں، ملحقہ اداروں کی کارکردگی اور جاری اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر مشیر برائے ریلیف نے سیکرٹری ریلیف کو ہدایت کی کہ گزشتہ 13 سال کے دوران محکمہ میں ہونے والی تمام بھرتیوں کا مکمل اور مستند ریکارڈ پیش کیا جائے۔
ثمر ہارون بلور نے محکمہ کے گزشتہ 13 سال کے مختص بجٹ، فنڈز کے اجرا اور استعمال کی تفصیلات پر مشتمل جامع رپورٹ بھی طلب کی۔ اجلاس میں اے ڈی پی اور نان اے ڈی پی اسکیموں کی منظوری، فنڈز کے اجرا، اخراجات، پیش رفت اور تکمیل سے متعلق گزشتہ 13 سالہ ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام بھرتیوں، مالی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ شفاف، جامع اور قابلِ تصدیق ہونا چاہیے تاکہ محکمہ کی کارکردگی اور وسائل کے استعمال کا مؤثر جائزہ لیا جا سکے۔
اجلاس میں صوبے میں قدرتی آفات سے نمٹنے اور ہنگامی حالات میں عوام کو فوری امداد فراہم کرنے کے حوالے سے محکمہ کے ملحقہ اداروں کے کردار پر بھی بریفنگ دی گئی۔ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے قدرتی آفات سے قبل تیاری، ابتدائی انتباہی نظام، ہنگامی منصوبہ بندی، نقصانات کے تخمینے اور متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کے امور سے آگاہ کیا۔
ریسکیو 1122 کے حکام نے ہنگامی حالات میں بروقت امدادی کارروائیوں، طبی سہولیات، مریضوں کی منتقلی، آگ بجھانے اور خصوصی ریسکیو آپریشنز کے بارے میں تفصیلات پیش کیں۔ سول ڈیفنس کی جانب سے عوامی تحفظ، رضاکاروں کی تربیت، فائر سیفٹی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں سے متعلق چیلنجز کے تناظر میں محکمہ ریلیف اور اس کے ملحقہ اداروں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنا، ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل دینا اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری مؤثر ہنگامی منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری یقینی بنائی جائے۔ امدادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت و معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے۔
مشیر برائے ریلیف نے کہا کہ “بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبرپختونخوا” ہمارا وژن ہے جس کے عملی نفاذ کے لیے محکمہ ریلیف اور اس کے ملحقہ اداروں میں ادارہ جاتی اصلاحات اور استعدادِ کار بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محکمہ ریلیف کی انتظامی و مالی کارکردگی کا جائزہ لینے، ریکارڈ کو منظم بنانے اور ہنگامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں عوام کو فوری، مؤثر اور شفاف انداز میں امداد فراہم کی جا سکے۔