ناسا کا 49 سال پرانا خلائی جہاز نیا ریکارڈ بنانے کے قریب

ناسا کا 49 سال پرانا خلائی جہاز نیا ریکارڈ بنانے کے قریب

ناسا کا خلائی جہاز وائجر 1 ایک ایسا تاریخی سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے جو خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ تقریباً نصف صدی قبل خلا میں بھیجا جانے والا یہ جہاز اب زمین سے اتنی دور پہنچنے والا ہے کہ اس کا فاصلہ ایک نوری دن کے برابر ہو جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنس دانوں کی پیش گوئی ہے کہ 18 نومبر 2026 کو وائجر 1 زمین سے تقریباً 25 ارب 90 کروڑ کلومیٹر دور ہوگا۔ اس طرح یہ زمین سے ایک نوری دن کے فاصلے تک پہنچ جائے گا۔

لیکن ایک نوری دن کا مطلب کیا ہے؟

آسان الفاظ میں ایک نوری دن وہ فاصلہ ہے جو روشنی خلا میں 24 گھنٹوں کے دوران طے کرتی ہے۔ روشنی کی رفتار تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، اس حساب سے ایک نوری دن تقریباً 25 ارب 90 کروڑ کلومیٹر بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نہ ربڑ، نہ پلاسٹک، پھر بھی مڑ جاتا ہے یہ پتھر! آخر کیسے

اس فاصلے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر زمین سے وائجر 1 کو کوئی ریڈیو پیغام بھیجا جائے تو اسے خلائی جہاز تک پہنچنے میں تقریباً 24 گھنٹے لگیں گے۔

اسی طرح وائجر 1 کی جانب سے بھیجا گیا جواب زمین تک واپس پہنچنے میں مزید 24 گھنٹے لے گا۔ یوں ایک پیغام بھیجنے اور اس کا جواب موصول ہونے میں تقریباً 48 گھنٹے درکار ہوں گے۔

واضح رہے کہ وائجر 1 کو ناسا نے 5 ستمبر 1977 کو خلا میں روانہ کیا تھا۔ یہ انسان کا بنایا ہوا زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود خلائی جہاز ہے اور نظام شمسی سے باہر بین النجمی خلا میں سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

تقریباً5 دہائیوں سے جاری اس سفر نے انسان کو کائنات کے ان حصوں تک پہنچنے میں مدد دی ہے جہاں تک پہنچنا کبھی محض ایک خواب سمجھا جاتا تھا۔

editor

Related Articles