انسداد دہشت گردی عدالت نے سڑک بلاک کرنے اور پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو 5، 5 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت پولیس کی جانب سے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت کو بتایا کہ سر، آج ریکارڈ آگیا ہے۔ اس پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ آج بھی ریکارڈ نہ آتا تو میں انہیں بتاتا۔
سماعت کے دوران جج نے پولیس سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ آپ لوگوں نے کچھ کہنا ہے؟ تاہم اس کے بعد انہوں نے کہا کہ چلیں رہنے دیں، ضمانت منظور۔
عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت 5، 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کو شوکاز نوٹس سے متعلق معاملہ بھی دیکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو شوکاز والا معاملہ میں دیکھ لیتا ہوں۔
عدالتی فیصلے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مقررہ مچلکے جمع کرانے پر ضمانت پر رہائی مل سکے گی