سپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد اور اسے آگ لگانے کے الزام کا سامنا کرنے والے انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے باورچی جواد عباسی کی اپیل خارج کرتے ہوئے ان کی جبری ریٹائرمنٹ کا محکمانہ فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے بیوی کو آگ لگانے کے الزام میں آئی بی کے باورچی جواد عباسی کی اپیل خارج کرتے ہوئے ان کی جبری ریٹائرمنٹ کا محکمانہ فیصلہ برقرار رکھا ، جسٹس شاہد وحید کا تحریر کردہ فیصلے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے مطابق فوجداری کیس میں بریت محکمانہ کارروائی سے بریت کے لیے کافی نہیں۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سرکاری ملازم کی نجی زندگی کا کردار بھی محکمانہ احتساب کے دائرے میں آ سکتا ہے، گھر کی چار دیواری میں خواتین پر تشدد کو نجی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا، خواتین کی عزت و وقار کا تحفظ آئینی ذمہ داری ہے، ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کی حیثیت سے عورت کا ہر رشتہ قابلِ احترام ہے، بیوی پر تشدد اور آگ لگانے کے الزام میں آئی بی ملازم کی محکمانہ سزا برقرار رہے گی۔
سرکاری ملازم کا کردار صرف دفتری فرائض تک محدود نہیں اور نجی زندگی بھی اہم ہے، محکمانہ انکوائری میں 13 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
خواتین پر تشدد کرنے والا سرکاری ملازم عوامی اعتماد اور ادارے کی ساکھ متاثر کرتا ہے، ملزم نے 2022 میں بیوی پر تشدد کے دوران اسے آگ لگائی اور جان سے مارنے کی کوشش کی، دفتر سے باہر کیا گیا جرم بھی سرکاری ملازمت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔