نہ ربڑ، نہ پلاسٹک، پھر بھی مڑ جاتا ہے یہ پتھر! آخر کیسے

نہ ربڑ، نہ پلاسٹک، پھر بھی مڑ جاتا ہے یہ پتھر! آخر کیسے

عام طور پر پتھر کو سخت اور مضبوط چیز سمجھا جاتا ہے، جسے موڑنے کی کوشش کی جائے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن دنیا میں ایک ایسا نایاب پتھر بھی موجود ہے جو اپنی غیر معمولی لچک کے باعث حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

اس پتھر کا نام ’ایٹاکولومائٹ‘ (Itacolumite) ہے، جو دراصل ایک خاص قسم کا قدرتی ریتلا پتھر ہے۔ اس کی سب سے دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ اگر اسے باریک پٹی کی شکل میں کاٹا جائے تو یہ ٹوٹنے کے بجائے جھک سکتا ہے اور اسے ہلانے پر اس میں واضح لچک محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خزاں میں درختوں پر رنگوں کی بہار کیوں آتی ہے؟ جانیں اس کی وجہ

یہ نایاب پتھر بنیادی طور پر برازیل کے علاقے ایٹاکولومی اور بھارت کے صوبہ ہریانہ کے گاؤں کلیانہ سمیت بعض دیگر مقامات پر پایا جاتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایک سخت پتھر ربڑ کی طرح کیسے مڑ سکتا ہے؟

اس کی وجہ اس کی اندرونی ساخت میں چھپی ہوئی ہے۔ ایٹاکولومائٹ کے اندر موجود کوارٹز یعنی ریت کے ذرات عام پتھروں کی طرح مکمل طور پر ایک دوسرے میں مضبوطی سے جکڑے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے درمیان انتہائی باریک خلا موجود ہوتا ہے۔

جب اس پتھر کو دباؤ یا موڑنے کی قوت دی جاتی ہے تو اس کے ذرات معمولی حرکت کرتے ہوئے ایک دوسرے کے اوپر سرک سکتے ہیں۔ بعض نمونوں میں موجود ابھرک (Mica) کے باریک ذرات بھی اس ساخت کو سہارا دینے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سوتے وقت فون پاس رکھنے والوں کے لیے اہم خبر، دماغ پر کیا اثر پڑتا ہے

اسی خاص اندرونی ترتیب کی وجہ سے یہ پتھر ٹوٹنے کے بجائے محدود حد تک مڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایٹاکولومائٹ قدرت کی ان حیرت انگیز تخلیقات میں سے ایک ہے جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ ہر سخت نظر آنے والی چیز کی اندرونی ساخت ایک جیسی نہیں ہوتی۔

editor

Related Articles