امریکی خلائی ادارے ناسا کے 4 ماہرین مریخ جیسے مصنوعی ماحول میں 378 دن گزارنے کے بعد واپس آ گئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے ایک سال سے زائد عرصہ زمین پر رہتے ہوئے مریخ کے ممکنہ حالات میں زندگی گزارنے کا تجربہ کیا۔
یہ مشن امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر میں مکمل کیا گیا، جہاں ماہرین نے تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ایک خصوصی رہائشی مرکز میں قیام کیا۔
اس طویل تجربے کے دوران ٹیم کو محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزارنے، خوراک کا انتظام کرنے اور خود فصلیں اگانے کی ذمہ داری دی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مریخ کی سطح سے مشابہ مصنوعی ماحول میں خلائی لباس پہن کر مختلف سرگرمیوں اور مشقوں میں بھی حصہ لیا۔
ناسا کے اس تجربے کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ طویل عرصے تک زمین سے دور اور محدود سہولیات میں رہنے سے خلابازوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مشن کے دوران جمع کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ مستقبل میں مریخ پر انسانی مشن کی منصوبہ بندی میں مدد دے گا، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ خلاباز طویل خلائی سفر اور مریخ پر قیام کے دوران درپیش مشکلات کا کس طرح سامنا کر سکیں گے۔