لاہور میں موجود 176 سالہ پودا، جس کی نسل ڈائنوسارز سے بھی قدیم ہے

لاہور میں موجود 176 سالہ پودا، جس کی نسل ڈائنوسارز سے بھی قدیم ہے

لاہور کے تاریخی لارنس گارڈن، جسے جناح گارڈن بھی کہا جاتا ہے، میں 176 سال قدیم کوئین ساگو پام آج بھی موجود ہے۔ یہ نایاب پودا ایسی قدیم نسل سے تعلق رکھتا ہے جو ڈائنوسارز کے دور سے بھی پہلے زمین پر پائی جاتی تھی۔

پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کے مطابق یہ پودا 1850 میں لگایا گیا تھا، یعنی لارنس گارڈن کے قیام سے بھی کئی سال پہلے۔ یہ باغ 1860 کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا۔

کوئین ساگو پام دراصل سائیکڈز (Cycads) نامی پودوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے، جس کی نسل تقریباً 28 سے 30 کروڑ سال پرانی ہے۔ یہ پودے انتہائی سست رفتاری سے بڑھتے ہیں اور انہیں اپنی ساخت میں لاکھوں سال کے دوران معمولی تبدیلیوں کے باعث “زندہ فوسلز” بھی کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:معمولی انعام کی امید تھی، مگر ٹکٹ نے بنا دیا کروڑ پتی

سائیکڈز ڈائنوسارز کے زمانے میں عام پائے جاتے تھے، تاہم آج ان کی کئی اقسام معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

لارنس گارڈن میں درختوں کی تقریباً 150 اقسام موجود ہیں، جن میں پام کے درختوں کی 30 اقسام بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ باغ لاہور کے اہم تاریخی اور نباتاتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پودے کی اپنی عمر 176 سال ہے، جبکہ اس کی نسل کا تعلق تقریباً 28 سے 30 کروڑ سال پرانے دور سے ہے۔

editor

Related Articles