محکمہ صحت کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل (ایم سی سی) میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے اسکینڈل میں گرفتار ملزم عرفان الحق کو احتساب عدالت نے مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کر دیا۔ ملزم پر جعلی دستاویزات کے ذریعے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں کوالیفائی کرنے، سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کے ساتھ مبینہ ملی بھگت اور سرکاری خزانے سے مکمل ادائیگی وصول کرنے کے باوجود کروڑوں روپے مالیت کا سامان فراہم نہ کرنے کے الزامات ہیں۔
احتساب عدالت میں کیس کی سماعت احتساب جج محمد حامد مفل نے کی۔ دورانِ سماعت نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ گرفتار ملزم عرفان الحق کو بھی جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عرفان الحق نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر محکمہ صحت کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں کوالیفائی کیا اور بعد ازاں سرکاری ادویات اور طبی سامان کی خریداری کے عمل میں مالی فوائد حاصل کیے۔
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم پر سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز شوکت علی کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کا بھی الزام ہے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ ملزم کی فرم کو مجموعی طور پر 300 ملین روپے، یعنی 30 کروڑ روپے مالیت کے پانچ پرچیز آرڈرز جاری کیے گئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ان پرچیز آرڈرز کے اجرا کے بعد صرف ایک ماہ کے اندر ملزم کی فرم کو 300 ملین روپے کی مکمل ادائیگی کر دی گئی، تاہم پوری رقم وصول کرنے کے باوجود معاہدے کے مطابق سامان کی مکمل فراہمی نہیں کی گئی۔
نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے مکمل ادائیگی وصول کرنے کے باوجود 69.37 ملین روپے، یعنی تقریباً 6 کروڑ 93 لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کا سامان محکمہ صحت کو فراہم نہیں کیا، جس سے سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر بھاری مالی نقصان پہنچا۔
استغاثہ کے مطابق اس معاملے میں سرکاری خریداری کے طریقۂ کار، فرم کی اہلیت، پرچیز آرڈرز کے اجرا، ادائیگیوں اور سامان کی فراہمی سے متعلق معاملات زیرِ تفتیش ہیں۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ چیئرمین نیب نے 16 اپریل 2026 کو ملزم عرفان الحق کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جبکہ نیب کی ٹیم نے ملزم کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا۔
نیب کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقدمے کی تفتیش تاحال مکمل نہیں ہوئی اور مالی معاملات سے متعلق مزید شواہد اور حقائق کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ اس لیے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاکہ تفتیش کو آگے بڑھایا جا سکے۔
نیب پراسیکیوٹر کے دلائل اور تفتیشی افسر کی موجودگی میں پیش کی گئی درخواست پر احتساب عدالت نے ملزم عرفان الحق کا مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے دوبارہ نیب کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
اس مقدمے میں 30 کروڑ روپے کے پانچ پرچیز آرڈرز، ایک ماہ کے اندر مکمل ادائیگی اور تقریباً سات کروڑ روپے مالیت کے سامان کی مبینہ عدم فراہمی جیسے معاملات تفتیش کا اہم حصہ ہیں۔
محکمہ صحت کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل سے متعلق اس کیس میں سابق ڈی جی ہیلتھ سروسز شوکت علی کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کا الزام بھی سامنے آیا ہے، تاہم ان الزامات کی قانونی حیثیت اور متعلقہ افراد کی ذمہ داری کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔