جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مولانا فضل الرحمان پر میڈیا میں تجاوزات اور کرپشن کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا لیکن جب ان سے اس معاملے کی حقیقت بارے آزاد ڈیجیٹل کے صحافی کی جانب سے سوال پوچھا گیا تو وہ جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آئے اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگے ۔
آزاد ڈیجیٹل کے صحافی کے پوچھے گئے سوال پر کہ کیا جے یو آئی (ف) کوئی قانونی کارروائی کرنے جا رہی ہے، کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ آج ہی ہتکِ عزت (ڈیفیمیشن) اور ہرجانے کے نوٹسز جاری کر دیے جائیں گے اور پھر دیکھا جائے گا۔
“نیب کا نوٹس ملا، مگر کچھ نہ ہلا”
جب صحافی نے یاد دلایا کہ نیب کی جانب سے کچھ عرصہ قبل مولانا فضل الرحمان کو 27 سوالات پر مشتمل نوٹس بھیجا گیا تھا اور کیا انہیں اس کا جواب دینا چاہیے تھا، تو کامران مرتضیٰ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا کہ نوٹس تو مل گیا تھا لیکن اس سے کوئی ہلچل نہیں مچی ، یعنی ابھی بھی اکڑ نہیں گئی ۔
🚨🚨 کسی کا گھر کسی اور کے نام پر بھی ہو سکتا ہے!
مولانا فضل الرحمن سے منسوب اسلام آباد G-6/4 کی جائیداد سے متعلق سوال پر JUI-F کے رہنما کامران مرتضیٰ کی انوکھی منطق! گھر کی اصل ملکیت کے سوال پر واضح جواب دینے کے بجائے گفتگو کا رخ ہی موڑ دیا! https://t.co/6yLtzyrJ2l
اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 فور میں مولانا فضل الرحمان کے زیرِ استعمال گھر کے امان اللہ نامی شخص کے نام پر ہونے اور اس کی منی ٹریل نہ دینے سے متعلق سوال پر کامران مرتضیٰ نے الٹا سوال کر ڈالا کہ کیا صحافی کا اپنا گھر ان کے اپنے نام پر ہے؟ یعنی سوال پوچھو کچھ اور جواب ملے کچھ ، جب ان سے پوچھا گیا کہ کہ جائیداد کس کی ہے، تو ان کا مؤقف تھا کہ منی ٹریل مانگنے کا اختیار صرف متعلقہ ادارے کا ہے، جو خود تشریف لائے اور اپنی بات کرے ۔
کامران مرتضیٰ کا انوکھا تضاد: “ڈرون پھس ہوتے ہیں اور ڈنڈے سے گرا دیتے” مگر خود عدالت کا رخ کیوں کرنا پڑا؟
ایک طرف تو کامران مرتضی یہ دعویٰ کرتے ہوئے نظر آئے کہ اگر انہیں پتا چلتا تو وہ فوٹیج بنانے والے ڈرون کو ڈنڈے سے ہی گرا دیتے کیونکہ ایسے ڈرون تو “پھس” ہوتے ہیں، لیکن دوسری طرف سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ آلات اتنے ہی کمزور اور بے حیثیت تھے تو پھر اس معمولی معاملے پر خود کامران مرتضیٰ اور ان کی جماعت کو عدالت کا دروازہ کیوں کھٹکھٹانا پڑا؟
بینامی ٹرانزیکشنز اور عوامی احتساب کے سوالات
ملک بھر میں موجود جائیدادوں اور بے نامی ٹرانزیکشنز کے حوالے سے جب صحافی نے مؤقف اپنایا تو اسے کہا گیاکہ اگر اس حوالے سے کوئی معلومات یا پورٹ فولیو درکار ہے تو متعلقہ بندے کو بھیجا جائے ، اگر اتنے ہی سچے ہو تو دبنگ جواب دو ، عوامی نمائندوں سے ان کی جائیدادوں اور اثاثوں پر سوالات کرنا میڈیا کی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور حق کا حصہ ہے۔