سرکاری عمارتیں جلانے کے ماسٹر مائنڈ پر قانون کا شکنجہ سخت، روپوش سہیل آفریدی اور بابر سواتی کے کیسز اب لارجر بینچ کے حوالے کرنے کی تجویز
Home - آزاد سیاست - سرکاری عمارتیں جلانے کے ماسٹر مائنڈ پر قانون کا شکنجہ سخت، روپوش سہیل آفریدی اور بابر سواتی کے کیسز اب لارجر بینچ کے حوالے کرنے کی تجویز
پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور دیگر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی تجویز بھی دی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس نعیم انجم پر مشتمل تھا، نے سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے ہدایت کی کہ معاملہ چیف جسٹس کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے پر غور کیا جاسکے۔
سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے درخواست ان کے بھائی محمد عامر نے دائر کر رکھی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کو مبینہ طور پر وزیراعلیٰ ہاؤس سے لے جایا گیا اور ان کے اہل خانہ کو ان کے مقام اور قانونی حیثیت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اگر سہیل آفریدی کسی کی تحویل میں ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کی حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جاسکے۔
اس سے قبل پشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کے مقام اور قانونی حیثیت سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے آئی جی پولیس، سی سی پی او، چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری کو ہدایت کی تھی کہ وہ بتائیں آیا سہیل آفریدی کسی مقدمے میں گرفتار یا نامزد ہیں اور اس وقت کہاں موجود ہیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے مقررہ مدت میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
درخواستوں میں بابر سلیم سواتی سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی مبینہ حراست یا لاپتا ہونے سے متعلق بھی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ متعلقہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور اگر انہیں حراست میں رکھا گیا ہے تو اس کی قانونی بنیاد عدالت کے سامنے پیش کی جائے۔
عدالت کی جانب سے معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھنے اور لارجر بینچ کی تشکیل پر غور کی ہدایت کے بعد درخواستوں پر آئندہ کارروائی بڑے بینچ کے سامنے ہونے کا امکان ہے۔ تاہم آج کی سماعت میں سہیل آفریدی یا دیگر درخواست گزاروں کی بازیابی سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
دریں اثنا، سہیل آفریدی کے خلاف پشاور میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس الگ سے زیرِ سماعت ہے، جس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے ان کے اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت 4 نومبر کو مقرر ہے