مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر قیادت آزاد ڈیجیٹل کے غیر جانبدارانہ صحافت کے بعد ان کے گھروں میں لرزا طاری ہے کیونکہ یہ پچھلے چالیس سال سے ہر حکومت میں وزارتیں اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں، کسی بھی میڈیا چینل نے ان کی حقیقت عیاں کرنے کی جسارت نہیں جب آزاد ڈیجیٹل کی جانب سے نیب کی جانب سے بھیجے گئے 26 سوالوں اور بے نامی جائیدادوں سے متعلق رپورٹنگ شروع کی گئی تو اس کیخلاف سوشل میڈیا پر محاذ کھول لیا گیا ۔
جے یو آئی کے سربراہ سمیت متعدد رہنمائوں کی جانب سے کالے چینل کے القابات استعمال کیے گئے تاہم آزاد ڈیجیٹل اپنے غیر جانبدارانہ صحافت کے باعث انہیں کھٹکنا شروع ہو گیا ۔ ے آئی ف کے رہنما راشد سومرو کی جانب سے دھمکی آمیز لہجے میں کہا گیا ہے کہ کارکنوں پریس کلبوں میں پہنچواور اس چینل کیخلاف پریس کانفرنسز کرو راشد سومرو نے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی ہیں یاد رکھیں جمعیت کے کارکن یہ قبول نہیں کریں گے ضلعی امرا اور نظما کو اشتعال دلاتے ہوئے راشد سومرونے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر G-6 میں کروڑوں روپے کی بے نامی پراپرٹی اور غیر قانونی تجاوزات پر مبنی تحقیقی رپورٹنگ کرنے پر ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ‘آزاد ڈیجیٹل’ کو جامیہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اہم رہنما راشد سومرو کی جانب سے شدید جانی و مالی نقصان کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :اسلام آباد کے گھر اور بے نامی جائیدادوں پرسوال، کامران مرتضیٰ کا آزاد ڈیجیٹل کے صحافی کے سوالات کا جواب دینے سے گریز
قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اٹھائے گئے 26 سوالات، کروڑوں روپے مالیت کی بے نامی جائیداد اور تجاوزات کے حوالے سے کی جانے والی صحافتی رپورٹنگ پر جے یو آئی (ف) کے رہنما راشد سومرو کی جانب سے آزاد ڈیجیٹل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ نیب انکوائری اور کرپشن کی نشاندہی پر مبنی سچی رپورٹنگ کے بعد انہیں مسلسل جانی و مالی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
اس صورتحال پر اپنا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے آزاد ڈیجیٹل انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران دی جانے والی دھمکیوں کے خلاف ادارہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 107 کے تحت تمام قانونی راستے اور اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔
قانون کے مطابق دھمکیاں دینے والے عناصر کو امن و امان کی خرابی کے خدشے کے تحت قانونی شکنجے میں لانے اور صحافتی تحفظ کے لیے متعلقہ فورمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کیا جا رہا ہے۔


