اقتدار کے حصول کے لیے ریاست کے خلاف محاذ آرائی اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران مسلح جتھوں کی موجودگی پر خیبرپختونخوا کے شہریوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاست پر سخت سوالات اٹھا دیے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں نے اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں ٹائیگر فورس بنائی تو اس پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، اب مولانا فضل الرحمان کے پاس بھی انصار الاسلام کے نام سے فورس موجود ہے۔
شہریوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملک میں ریاستی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں تو سیاسی جماعتوں کو اپنی نجی مسلح فورسز بنانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ کیا ایسے اقدامات ریاستی نظام کے متوازی ایک اور نظام کھڑا کرنے کے مترادف نہیں؟ عوام نے مطالبہ کیا کہ ان فورسز کی موجودگی کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔
دوسری جانب پشاور کے شہریوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاست ہمیشہ مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ماضی میں جب انہیں اقتدار میں اپنی خواہشات کے مطابق حصہ نہیں ملا تو وہ حکومت اور ریاست کے سخت ناقد بن کر سامنے آئے۔
شہریوں نے ماضی میں شدید سیاسی مخالفت اور ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دینے کے بعد تحریک انصاف کے ساتھ اچانک سیاسی قربت اور اتحاد پر بھی حیرت کا اظہار کیاان کا کہنا تھا کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے قائم ہونے والا یہ اتحاد محض وقتی سیاسی شور وغل ہے، جو اپنے مقاصد پورے ہونے کے بعد خود ہی ختم ہو جائے گا۔