سینئر سیاستدان فیاض الحسن چوہان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا غصہ، غرور، تکبر اور فرعونیت اب ابل کر باہر آ رہی ہے، ہر آنے والے دن کے ساتھ مولانا کی شخصیت کی 90 فیصد چھپی ہوئی فرعونیت اور ابلیسیت عیاں ہو رہی ہے۔
فیاض الحسن چوہان نے مولانا فضل الرحمان کے علماء اور طلباء سے حالیہ خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز اپنے طلباء اور علماء سے جو خطاب کیا، اس کا ایک ایک لفظ غرور، تکبر، ابلیسیت، فرعونیت اور عنانیت پر مبنی تھا، ان کی گفتگو سے تکبر صاف جھلک رہا تھا۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تکبر اور غرور میں مت آئیں، آپ کی روزمرہ گفتگو اور تقریروں کا یہ انداز بالکل ٹھیک نہیں، شاید آپ کو اس بات کا غرور ہے کہ آپ کے پاس پرائیویٹ ملیشیا ہے، لیکن اگر آپ میں ہمت ہے تو ہمیں ہاتھ لگا کر دکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان اجتماعیت کا پابند ہوتا ہے اور اجتماعیت سے مراد معاشرہ اور ریاست کی رٹ ہے، جس کے سامنے ہر کسی کو خود کو جھکانا پڑتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے فرعون اور نمرود جیسے رویے اپنا لیے ہیں۔
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ جب مولانا فضل الرحمان سے پوچھا جاتا ہے کہ ان کا کاروبار کیا ہے، اربوں روپے کے مکانات کہاں سے آئے، مفتی محمود مرکز کس پیسے سے بنایا گیا اور اتنے بڑے پیمانے پر مدرسے کیسے قائم کیے گئے تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ تم کون ہوتے ہو ہم سے پوچھنے والے؟
انہوں نے کہا کہ ریاست ریاست ہوتی ہے، جس غرور اور تکبر کا مظاہرہ مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں، ماضی میں عمران خان بھی اسی طرح کا رویہ رکھتے تھے،عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ عمران خان کی تحریک میں بھی لوگوں کو پلے سے لگا کر ہلہ شیری دی جاتی تھی، ملک دشمن طاقتوں کے سوشل میڈیا نے انہیں بھی مقبولیت کا بت بنا رکھا تھا اور کہا جاتا تھا کہ کوئی ہاتھ لگا کر دکھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی کہا تھا کہ میں ریڈ لائن ہوں، پھر زمان پارک کے باہر ماسی ویہڑا لگا، لیکن آج کیا حال ہے؟ آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں اور ان کے نام پر ایک بندہ بھی احتجاج کرنے والا موجود نہیں۔
مولانا فضل الرحمان کی حیثیت پر تنقید کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ تم کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا، تمہاری اوقات زکوٰۃ، خیرات اور چندوں پر پلنے والی ہے، تمہاری حیثیت ہی کیا ہے؟ کیا مدرسے کے معصوم بچوں کو استعمال کرکے ریاست کو آنکھیں دکھاؤ گے؟
انہوں نے مزید کہا کہ کبھی بھی کوئی کرپٹ، بددیانت اور بدکردار شخص ریاست سے نہیں ٹکرا سکتا، اگر کوئی سو فیصد سچا انسان بھی ہو تو وہ بھی ریاست سے ٹکرا کر تباہ و برباد ہو جاتا ہے، یہ طے شدہ بات ہے۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ سر سے پاؤں تک ریاست کا کانا شخص ریاست کو تڑیاں نہیں لگا سکتا۔ جس دن ریاست نے طے کر لیا کہ تمہارے پیچ پرزے کسنے ہیں، پھر دیکھوں گا کہ کون سے مدرسوں کے بچے تمہیں بچانے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا پورا گینگ نوسربازوں اور دین بیچنے والوں پر مشتمل ہے، وہ دور گزر گیا جب ریاست بلیک میل ہوا کرتی تھی۔ بندے کے پتر بن کر سیاست کریں گے تو سیاست چلے گی، لیکن بدمعاشی اور بلیک میلنگ اب اس دور میں ہرگز نہیں چلے گی،فیاض الحسن چوہان نے خبردار کیا کہ جس دن ریاست نے مولانا فضل الرحمان کو سیدھا کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس دن ان کا نام لیوا بھی کوئی باقی نہیں رہے گا۔