دین کی اوٹ میں اربوں کا ڈاکہ، اسلام آباد کے سیکٹر G-13 میں فضل الرحمان کے بے نامی مدرسے کا بھانڈا پھوٹ گیا

دین کی اوٹ میں اربوں کا ڈاکہ، اسلام آباد کے سیکٹر G-13 میں فضل الرحمان کے بے نامی مدرسے کا بھانڈا پھوٹ گیا

اسلام آباد کے پوش سیکٹر G-13 میں سرکاری زمین پر قبضے اور سیاسی اثر و رسوخ کے غلط استعمال کا ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے،سیکٹر G-13 کے مرکز میں چار کنال رقبے پر محیط اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات اور مدرسے کے قیام نے سیاسی و عوامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

جامعہ مسجد و مدرسہ المحمود کی تعمیر

 رپورٹ کے مطابق اس قیمتی سرکاری زمین پر ایک بڑی زیر تعمیر عمارت موجود ہے، جس کے مرکزی دروازے کے ساتھ ایک جانب جامعہ مسجد اور دوسری جانب مدرسہ قائم کیا گیا ہے۔

 اس کا نام جامعہ مسجد و مدرسہ المحمودرکھا گیا۔ اس احاطے میں سینکڑوں طلباء کو دینی تعلیم دی جاتی ہے اور اندرونی حصوں میں متعدد چھوٹے چھوٹے کمرے، ہالز اور ذیلی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے، اس مدرسے کے باہر باقاعدہ ایک چندہ باکس بھی نصب ہے جس پر چندہ برائے جامعہ مسجد و مدرسہ المحمود G-13 درج ہے، جہاں سے ادارے کے لیے فنڈز بھی اکٹھے کیے جاتے ہیں۔

وزارتِ ہاؤسنگ اور سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال

رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ زمین کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے مالیت کی ہے، جس پر مولانا فضل الرحمان نے اپنے سیاسی اور سرکاری اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر قبضہ کیا ہے۔

 معاملے کی تہہ تک جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 2013 سے 2018 کے دوران جب مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی اکرم خان درانی وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے منسٹر (وزیر) کے عہدے پر فائز تھے، اسی دورِ اقتدار میں اس سرکاری زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کیا گیا اور قابض مافیا کی پشت پناہی کرتے ہوئے یہاں تعمیراتی کام کا آغاز کیا گیا زمین کی پشت پر چار دیواری کر کے مزید رقبے کو بھی گھیرے میں لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی پراسرار خاموشی

اس سے قبل بھی مولانا فضل الرحمان اور ان سے وابستہ شخصیات پر سرکاری زمینوں پر قبضے کے سنگین الزامات سامنے آ چکے ہیںاب جب کہ سیکٹر G-13 کی اس اربوں روپے کی سرکاری اراضی پر مدرسہ اور مسجد بنانے کی قلعی کھل چکی ہے، تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ زمین سرکاری نہیں ہے اور اس کی قانونی الاٹمنٹ کے کاغذات موجود ہیں، تو مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت اس معاملے پر مکمل طور پر خاموش کیوں ہیں؟

عوامی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے کی اس سرکاری زمین پر قبضے اور سیاسی اثر و رسوخ کے اس مکروہ کھیل کا فوری نوٹس لیا جائے اور زمینی حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں

editor

Related Articles