اقتدار میں حصہ ملا تو ‘مفاہمت’، نہ ملا تو ‘بغاوت’ ، فیصل آباد کے شہری فضل الرحمان پر برس پڑے

اقتدار میں حصہ ملا تو ‘مفاہمت’، نہ ملا تو ‘بغاوت’ ، فیصل آباد کے شہری فضل الرحمان پر برس پڑے

سیاست میں اصول اور مفادات کی جنگ کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب منافقت کا نقاب الٹ جائے تو عوام خاموش نہیں رہتے ، فیصل آباد کی سڑکوں پر جب عام شہریوں سے مولانا فضل الرحمان کی سیاست کے حوالے سے رائے لی گئی، تو عوام کا غصہ اور مایوسی کھل کر سامنے آگئی۔

 فیصل آباد کے شہریوں نے آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں دو ٹوک الفاظ میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ مولانا فضل الرحمان کا سیاسی قبلہ ہمیشہ اقتدار کی سمت ہی رہتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو ہر دورِ حکومت میں اپنے لیے ‘فٹ’ بیٹھنے کی جگہ تلاش کر لیتے ہیں ، ماضی گواہ ہے کہ وہ ہر حکومت میں کسی نہ کسی طرح اقتدار کا حصہ بنتے رہے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب تک انہیں حکومتی ایوانوں میں من پسند حصے اور عہدے ملتے رہتے ہیں، تب تک نظام انہیں بہترین لگتا ہے مگر جیسے ہی اقتدار کی ہوس تشنہ رہ جائے، ان کا لب و لہجہ بدل جاتا ہے۔

 ریاست اور فوج کے خلاف بیانات ہدف 

عوام کا کہنا ہے  کہ اقتدار سے دوری  فضل الرحمن کے اس بیانیے کی اصل وجہ بنتی ہے جو ریاست اور پاک فوج کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے ،  پریس کانفرنسز کا طویل سلسلہ ہو یا حکومت پر تنقید، شہریوں کے مطابق مولانا ہمیشہ انہی لوگوں یا اداروں کو نشانہ بناتے ہیں جہاں سے ان کے ذاتی یا سیاسی مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

  نیب کے مقدمات اور چھ سال کا طویل عرصہ

گفتگو کے دوران شہریوں نے سن 2020 کے نیب مقدمات کا بھی احاطہ کیا جس میں  نیب نے فضل الرحمان کے اثاثوں اور زمینوں کے حوالے سے تحقیقات کا دائرہ کار بڑھایا تھا اور ان سے اثاثوں کی قانونی حیثیت کے ثبوت مانگے گئے تھے ، سال 2026 آ چکا ہے اور پورے چھ سال گزر جانے کے باوجود مولانا یا ان کے رفقاء اس بات کا کوئی تسلی بخش جواب یا دستویزی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ ان کے پاس اتنی جائیدادیں کہاں سے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں : صحافیوں پر وار، احتساب سے فرار! چنیوٹ کے عوام کا فضل الرحمان کے دوہرے معیار پر کڑا وار

 وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی لبادے میں چھپے ذاتی مفادات اب زیادہ دیر چھپے نہیں رہ سکتے،  فیصل آباد کے شہریوں کا یہ دو ٹوک مؤقف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اب ہر فریب کو بخوبی پہچانتی ہے ،  ایک طرف دینی اور اخلاقی اقدار کے بلند و بانگ دعوے اور دوسری طرف نیب کے سوالات پر چھ سالہ مجرمانہ خاموشی ، یہ تضاد اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،  جب تک اقتدار کی کرسیاں اور من پسند حصے ملتے رہیں ، تب تک نظام کے گن گائے جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی مفادات کی ڈور ٹوٹتی ہے، ریاست اور پاک فوج کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی جاتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی ہتھکنڈوں کی آڑ لینے والے تمام عناصر اپنے اثاثوں اور کمائی کا حساب دیں، کیونکہ باضمیر عوام اب مزید کسی مکر فریب یا دوہرے معیار کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے!

editor

Related Articles