سیاست کے ایوانوں میں خود کو ‘پارسا’ اور دوسروں کے لیے کٹہرے س سجانے والوں کا اصل چہرہ اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے ، چنیوٹ کے غیور شہریوں نے بھی فضل الرحمان کی سیاست، ان کے دوہرے معیارات اور صحافیوں کے خلاف رویے پر کھل کر اظہار خیال کیا ۔
آزاد ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں عوام کا کہنا تھا کہ اب منافقت کی اس سیاست کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ، صحافت پر حملے اور بزدلانہ روش جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کے دعوے داروں کا اصل روپ اس وقت طشت از بام ہو گیا ہے جس طرح فضل الرحمن اور اس کے پلے دھمکیاں اور ہراسانی پر اترے ہیں وہ قابل مذمت ہے ۔
شہریوں نے اس بات پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہچتا کہ وہ صحافیوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرے، ان کی توہین کرے یا ان پر حملے کروائے ، ایسے تمام گھناؤنے ہتھکنڈوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
احتساب کے نعرے اور نیب کے 20 سوالات
عوام کاکہنا تھا کہ سیاست کے اس پنڈت کا یہ پرانا شیوہ رہا ہے کہ وہ دوسروں کے احتساب کے لیے تو طویل وعظ کرتے ہیں، لیکن جب اپنی باری آئے تو قانون سے فرار کی راہیں تلاش کرتے ہیں، سال 2020 میں نیب کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کے سامنے رکھے گئے 20 سوالات اور اثاثوں کا چٹھا آج بھی ان کی بدعنوانی اور خاموشی کی گواہی دے رہا ہے ، حیرت کی بات یہ ہے کہ برسوں گزر جانے کے باوجود مولانا یا ان کے صاحبزادگان میں سے کسی نے بھی ان سوالوں کا ایک لفظی جواب یا اثاثوں کی کوئی قانونی رسید پیش نہیں کی۔
فوج اور ریاست کیخلاف ہرزہ سرائی
شہریوں کا کہنا تھا کہ دینی جماعتوں اور مقدس ناموں کی آڑ میں جو جائیدادیں بنائی گئیں، اب عوام ان کا ایک ایک پائی کا حساب مانگ رہی ہے ، فوج اور ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی سے متعلق شہریوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اس ملک کا قلعہ ہیں اور ہر پاکستانی کی جان سے بڑھ کر عزیز ہیں، سیاسی مفادات کی ہوس میں مبتلا عناصر جب اپنے ذاتی اقتدار کو بچانے کے لیے پاک فوج اور ریاستی اداروں کا مورال گرانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، تو چنیوٹ کا عام شہری اسے ملک دشمنی قرار دیتا ہے۔
چنیوٹ کے عوام کا یہ دو ٹوک پیغام اس بات کا غماز ہے کہ اب عوام اندھی تقلید کے دور سے باہر نکل چکی ہے، احتساب سب کا ہونا چاہیے، اور جو لوگ دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں، انہیں سب سے پہلے اپنے کالے کارناموں اور نیب کے سوالات کا جواب دینا ہوگا!