ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو ملنے والی شکست پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر اپنا تفصیلی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چاہے یہ ضمیر کی آواز ہو یا پھر بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بوجھ، امریکی عوام نے واضح طور پر جنگ کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور ایران امریکی عوام کے اس فیصلے کی کامل حمایت کرتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں باقر قالیباف نے امریکی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی حکومت عالمی آقاؤں اور بلیک میل کرنے والوں کے مفادات کی خاطر اپنے ہی عوام کی خواہشات سے انحراف کرتی ہے، تو اسے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا انکار ان کے لیے ایک بھیانک خواب بن کر سامنے آئے گا۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج
امریکی ریاستوں ورمونٹ، ورجینیا، جنوبی کیرولائنا، جارجیا، فلوریڈا، الینوائے اور الاباما سمیت مختلف ریاستوں کے متعدد علاقوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔
Conscience or the cost of living, Americans said NO TO WAR, and we endorse this message.
If the US govt betrays their public will to serve international paymasters and blackmailers, it will learn our NO comes with a Nightmare.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) November 4, 2026
ابتدائی نتائج اور رجحانات کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو 197 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ ریپبلکنز کے 114 ارکان آگے ہیں۔
دوسری جانب سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے 51 نشستیں جیت کر ایوانِ بالا پر اپنا مکمل کنٹرول اور برتری قائم کرتے ہوئے معرکہ اپنے نام کر لیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعترافِ شکست اور سیاسی حکمتِ عملی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابی نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگی حالات کی وجہ سے ہی ان کی پارٹی کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نئی صورتحال میں ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے اور تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح بھی کیا کہ اگر ڈیموکریٹس کی جانب سے کوئی ناقابلِ قبول اقدامات اٹھائے گئے تو وہ صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ویٹو کر دیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور امریکی رائے عامہ
امریکی تاریخ میں وسط مدتی انتخابات کو ہمیشہ سے موجودہ صدر کی پالیسیوں اور خارجہ امور پر عوامی ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ تصادم، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی عسکری مداخلت اور اس کے نتیجے میں امریکی معیشت پر پڑنے والے بوجھ نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی۔
ایران کی جانب سے اس سے قبل بھی واشنگٹن پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ امریکی پالیسیاں اسرائیلی اور دیگر بین الاقوامی لابیوں کے زیرِ اثر تشکیل دی جاتی ہیں۔
حالیہ انتخابی نتائج نے تہران کو ایک نیا سفارتی اور سیاسی موقع فراہم کیا ہے جس کی بنا پر ایرانی قیادت امریکی عوام کے رجحان کو اپنے موقف کی تائید قرار دے رہی ہے۔
بین الاقوامی سیاست اور سفارتی تعلقات
اگر اس بین الاقوامی تناظر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کا کنٹرول ٹرمپ انتظامیہ کی جابرانہ اور جارحانہ خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا بریک ثابت ہوگا۔ امریکی عوام نے نہ صرف معاشی دباؤ بلکہ نئی جنگوں میں الجھنے کی پالیسی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی اسپیکر کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران امریکی آئینی نظام اور عوامی رائے کے اس دباؤ کو واشنگٹن کے خلاف بطورِ ہتھیار استعمال کرنے کی حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کی مشروط پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اب ایران سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے پر کانگریس کے شدید دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کی شدت میں کمی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔