ڈیموکریٹ رہنما عبدل السید نے مشی گن سے امریکی سینیٹ کا معرکہ اپنے نام کر کے سینیٹ کے پہلے مسلمان امریکی رکن بننے کی تاریخ رقم کر دی ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات 2026 کے بدھ کو سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے اپنے حریف ریپبلکن رہنما مائیک راجرز کو شکست دے کر مشی گن کی سینیٹ نشست پر فتح حاصل کر لی ہے۔
اس کامیابی کے ساتھ ہی عبدل السید امریکی ایوانِ بالا (سینیٹ) کا حصہ بننے والے پہلے مسلمان امریکی بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ سنا دیا، امید ہے ٹرمپ کو سبق حاصل ہو گیا ہوگا، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف
یہ معرکہ سال 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے سب سے زیادہ سخت اور کانٹے دار مقابلوں میں شمار کیا جا رہا تھا، کیونکہ مائیک راجرز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست اور مکمل سیاسی پشت پناہی حاصل تھی۔
مناظرے کا موضوع، معاشی چیلنجز اور انتخابی اخراجات
انتخابات سے قبل مائیک راجرز اور عبدل السید کے درمیان ایک انتہائی اہم ٹیلی ویژن مباحثہ منعقد ہوا تھا، جس میں ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی کے اہم مسائل پر سخت تکرار دیکھنے میں آئی۔
مناظرے کے دوران مہنگائی، پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں، بین الاقوامی تجارتی ٹیرف اور کینیڈا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے اثرات جیسے حساس موضوعات زیرِ بحث آئے۔
اس انتخابی معرکے پر قومی سطح کی بڑی فنڈنگ اور سرمائے کا بے دردی سے استعمال دیکھا گیا۔ ریپبلکن تنظیموں اور گروپوں نے مائیک راجرز کی مہم پر تقریباً 104 ملین ڈالر کا بھاری سرمایہ خرچ کیا، جبکہ اس کے مقابلے میں ڈیموکریٹک تنظیموں نے مجموعی طور پر 55 ملین ڈالر کے فنڈز استعمال کیے، تاہم ڈیموکریٹک امیدوار عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
پرائمری الیکشن کا کٹھن سفر
سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے عبدل السید کو اپنی ہی پارٹی کے اندر شدید سیاسی جدوجہد کرنا پڑی تھی۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی پرائمری انتخابات میں انہوں نے معتدل نظریات کی حامل امریکی نمائندہ ہیلی سٹیونز کو انتہائی باریک اور سخت مقابلے کے بعد شکست دی تھی، جس کے بعد وہ سینیٹ کے میدان میں پارٹی کی نمائندگی کرنے کے قابل ہوئے تھے۔
عبدل السید کی کامیابی کے پیچھے ان کا پبلک ہیلتھ اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں تجربہ بھی شامل ہے، جس نے مشی گن کی متنوع اور بالخصوص عرب و مسلم آبادی کے علاوہ عام محنت کش طبقے کو بھی اپنے ساتھ جوڑا۔
مزید پڑھیں:امریکی انتخابات میں انوکھا ووٹ، خلائی اسٹیشن سے3 خلا بازوں نے حصہ لیا
سیاسی اور انتخابی منظرنامے کا گہرائی سے احاطہ کیا جائے تو مشی گن میں عبدل السید کی فتح محض ایک شخصی کامیابی نہیں بلکہ یہ امریکی سیاست میں مسلم برادری کی مؤثر اور تاریخی رسائی کی علامت ہے۔
ایسے وقت میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ریپبلکنز نے 104 ملین ڈالر کا بجٹ جھونک کر اس نشست کو جیتنے کی ہر ممکن کوشش کی، ایک مسلمان امیدوار کا 55 ملین ڈالر کے محدود وسائل کے باوجود فتح حاصل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی عوام اب معاشی حقیقتوں، مہنگائی اور عوامی مسائل کے پائیدار حل کو بیانیے اور سرمائے پر ترجیح دے رہے ہیں۔
سینیٹ میں عبدل السید کا داخلہ آئندہ امریکی قانون سازی، خارجہ پالیسی اور اقلیتوں کے حقوق کی بحث میں ایک نیا اور دور رس سیاسی تاثر قائم کرے گا۔
