اسلام آباد سے کوئٹہ تک پھیلی کالی کمائی کا نیٹ ورک، فضل الرحمٰن کا خاص آلہ کار کامران مرتضیٰ قانون کے شکنجے میں آ گیا ، ایف آئی نے طلب کر لیا

اسلام آباد سے کوئٹہ تک پھیلی کالی کمائی کا نیٹ ورک، فضل الرحمٰن کا خاص آلہ کار کامران مرتضیٰ قانون کے شکنجے میں آ گیا ، ایف آئی نے طلب کر لیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اسلام آباد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ کے خلاف جاری انکوائری کے سلسلے میں باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں طلب کرلیا ہے۔ ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹس کے بعد معاملے نے اہم رخ اختیار کرلیا، جبکہ ذرائع نے انکوائری کو جے یو آئی (ف) کی اعلیٰ قیادت سے منسوب  مالی بے ضابطگیوں اور کاروباری روابط کے وسیع تر معاملے سے جوڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دستاویزی شواہد کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے یکم نومبر 2026ء کو انکوائری نمبر 107-2026 کے تحت کامران مرتضیٰ ولد شیخ محمد اعجاز کے نام نوٹس جاری کیا۔ نوٹس میں انہیں 4 نومبر 2026ء کو دوپہر 12 بجے ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل، رامنا 20 بلڈنگ، جی-6 میلوڈی، اسلام آباد میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔

ایف آئی اے کے نوٹس کے مطابق متعلقہ انکوائری وفاقی تحقیقاتی ادارے کے قانون 1974ء اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کامران مرتضیٰ ایسے حقائق سے واقف دکھائی دیتے ہیں جو انکوائری کو حتمی شکل دینے کے لیے ضروری ہیں، لہٰذا انہیں متعلقہ سوالات کے جوابات دینے اور اپنے مؤقف کی تائید میں دستاویزی یا ڈیجیٹل شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ قانونی طلبی پر پیش نہ ہونے کی صورت میں دستیاب شواہد اور متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق کامران مرتضیٰ کی طلبی ایک ایسے وسیع تر مالیاتی معاملے کی تحقیقات کا حصہ ہے جس میں جے یو آئی (ف) کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص مولانا فضل الرحمان اور ان کے قریبی حلقوں کے مبینہ کاروباری روابط، مالی معاملات اور مختلف منصوبوں میں کردار کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے کے تانے بانے اسلام آباد سے کوئٹہ تک پھیلے ہوئے ہیں، تاہم ایف آئی اے کے جاری کردہ نوٹس میں ان الزامات کی تفصیلات درج نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے! فضل الرحمان کے کرپٹ بیٹے کے گرد قانون کا ہولناک شکنجہ، نیب اور ایف آئی اے کا بیک وقت نوٹس جاری

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں فرنٹ مینوں کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں، تجارتی اور رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں سہولت کاری اور مالی لین دین کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ کمرشل بینکنگ سرکل اس پہلو کی بھی چھان بین کررہا ہے کہ آیا متعلقہ مالی معاملات میں بینکنگ چینلز کا استعمال کسی غیر قانونی رقم کو قانونی کاروباری آمدن ظاہر کرنے کے لیے تو نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق انکوائری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، کرپشن سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی اور منی لانڈرنگ کے ممکنہ پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے اور ایف آئی اے کے نوٹس میں کامران مرتضیٰ کے خلاف کسی مخصوص جرم یا منی لانڈرنگ کے الزام کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کامران مرتضیٰ کے مبینہ کاروباری روابط اور مالی معاملات کی جانچ کے دوران دیگر متعلقہ افراد اور اداروں کے کردار کا بھی تعین کیا جاسکتا ہے۔ انکوائری میں بینکنگ ریکارڈ، مالی لین دین اور متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

معاملے میں اہم سوالات یہ ہیں کہ کامران مرتضیٰ کو انکوائری میں کن حقائق کے حوالے سے طلب کیا گیا؟ ان کے مبینہ کاروباری روابط اور مالی لین دین کی نوعیت کیا ہے؟ کیا کسی غیر قانونی مالی سرگرمی میں سہولت کاری یا بینکنگ چینلز کے استعمال کے شواہد موجود ہیں؟ اور کیا تحقیقات کا دائرہ مزید افراد تک بڑھایا جائے گا؟

ایف آئی اے کے باضابطہ نوٹس اور ذرائع کے دعوؤں کے بعد انکوائری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کامران مرتضیٰ کی پیشی، ان کے بیان اور تحقیقاتی ادارے کے سامنے پیش کیے جانے والے ریکارڈ کے بعد معاملے کے مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles