ربیع سیزن کی بوائی سے قبل کھاد کی بڑھتی قیمتوں اور دستیابی کے مسائل کے پیش نظر صوبائی حکومتوں نے کسانوں کو مالی ریلیف دینے پر غور شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں کھاد کی فی بوری پر 5 ہزار روپے تک سبسڈی دینے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب حکومت کھاد کی فی بوری پر 3 ہزار روپے سبسڈی دینے پر غور کررہی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے کسانوں کو فی بوری 5 ہزار روپے کی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت کھاد کی فراہمی بہتر بنانے اور قیمتوں کے دباؤ میں کمی لانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کے اجلاس میں ڈی اے پی کھاد کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ربیع سیزن 2026 اور 2027 کے لیے 50 ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد کی حالیہ درآمد کا خیرمقدم کیا اور کھاد کی قیمتیں کم کرنے کے لیے درآمدی ریگولیٹری ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) پر نظرثانی کی سفارش کی۔
کھاد کی قیمتوں میں یکساں نظام کا مطالبہ
اجلاس میں ربیع سیزن کے دوران گندم کی ریکارڈ کاشت اور فی 40 کلوگرام گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کے اعلان کو بھی سراہا گیا۔ وزارت قومی غذائی تحفظ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چاول کی پیداوار میں بھی 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سید حسین طارق نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو ضروری سہولیات فراہم کی جائیں اور تمام صوبوں میں سبسڈی کا یکساں نظام متعارف کرایا جائے تاکہ ملک بھر میں کھاد کی قیمتوں میں فرق ختم ہوسکے۔
اجلاس میں چوزوں کی مخصوص اقسام کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی سے استثنیٰ کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے سیڈ ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی اور اسے قومی اسمبلی سے منظور کرانے کی سفارش کردی۔