وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے خیبر پختونخوا میں ’ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم‘ متعارف کرواتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کو زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی بالخصوص جاری کردہ ہدایت پر خیبر پختونخوا کے درپیش طویل اور پیچیدہ توانائی مسائل کے پائیدار حل کے لیے وفاقی دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سطح کا مشترکہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
پاور ڈویژن میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر پیٹرولیم، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔
اجلاس کا بنیادی مقصد صوبے کے عوام کو بجلی کی فراہم کردہ سروسز میں حائل رکاوٹیں دور کرنا اور بجلی کے بحران کا ایسا مستقل فارمولا طے کرنا تھا جس سے وفاق اور صوبے دونوں کے تحفظات کا خاتمہ ہو سکے۔
جدید ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم کا نفاذ
اجلاس کے دوران طے پانے والے نئے اور اختراعی نظام کے تحت اب سے پورے فیڈر کو اجتماعی طور پر بند کرنے یا منقطع کرنے کے بجائے انفرادی ٹرانسفارمرز کی سطح پر لوڈ مینجمنٹ کی جائے گی۔
اس تکنیکی اور انتظام کاری تبدیلی سے بجلی کا بل باقاعدگی سے جمع کروانے والے باضمیر اور ذمہ دار صارفین کو بلاجواز اور بلا تعطل لوڈشیڈنگ سے بڑا ریلیف مل سکے گا۔
ماضی میں اگر کسی فیڈر کے تحت 30 فیصد افراد بھی بجلی چوری یا عدم ادائیگی میں ملوث ہوتے تھے تو پورا فیڈر بند کر دیا جاتا تھا، جس سے باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے 70 فیصد صارفین بھی متاثر ہوتے تھے۔
نیا نظام اس خامی کو دور کر کے صرف انہی ٹرانسفارمرز کو ٹارگٹ کرے گا جہاں نقصانات کی شرح طے شدہ حد سے تجاوز کرتی ہے۔
گورنر کے پی کے مطالبات اور فوری اقدامات پر اتفاق
اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں جاری طویل اور غیر متوقع لوڈشیڈنگ کا معاملہ انتہائی شدت کے ساتھ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا۔
گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ جن علاقوں میں لائن لاسز یا نقصانات کی شرح زیادہ ہے، وہاں بھی عذاب دہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم رکھا جائے اور عام عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے فوری، عمل درآمد کے قابل اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں موجود وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے خیبر پختونخوا کے توانائی مسائل حل کرنے کے لیے مربوط، مشترکہ اور مربوط اقدامات پر مکمل اتفاقِ رائے قائم کر لیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں بجلی بقایاجات اور فیڈر بحران
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع بالخصوص ضم شدہ قبائلی علاقوں اور جنوبی اضلاع میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے فیلڈ نیٹ ورک میں لائن لاسز اور بجلی چوری ایک مستقل اور دیرینہ ناسور رہے ہیں۔
ان نقصانات کی بنیاد پر پاور ڈویژن ماضی میں اعلیٰ نقصانات والے فیڈرز پر 12 سے 18 گھنٹے تک کی اجتماعی لوڈشیڈنگ نافذ کرتا رہا ہے، جس کے باعث صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان شدید سیاسی و انتظامی کشیدگی دیکھنے میں آتی رہی ہے۔
حالیہ مہینوں میں صوبائی اسمبلی کے اراکین اور سیاسی قیادت نے گرڈ اسٹیشنز پر احتجاجی دباؤ بھی بڑھایا تھا، جس کے بعد وزیراعظم کی سطح پر مداخلت کر کے معاملے کا مستقل انتظامی اور ٹیکنیکل حل تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ٹیکنالوجی کا استعمال اور جامع توانائی اصلاحات کا نقطہ نظر
اگر اس فیصلے کی گہرائی کا احاطہ کیا جائے تو ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ میں پیش رفت دراصل روایتی اور ظالمانہ ’اجتماعی سزا‘ کے سیاسی و انتظامی نظریے کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
ملک میں توانائی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کا سب سے بڑا چیلنج یہ رہا ہے کہ وہ بل نہ دینے والوں اور بل دینے والوں کے درمیان کوئی تفریق قائم نہیں کر پاتی تھیں۔
اس جدید نظام کے ذریعے اگر ٹیکنالوجی اور سمارٹ میٹرنگ کی واقعی مؤثر نگرانی کی جائے تو اس سے نہ صرف بجلی چوری میں کمی واقع ہوگی بلکہ ڈسکوز کی وصولی (ریکوری) کا گراف بھی اوپر جائے گا۔
گورنر اور وفاقی وزیر کے درمیان طے پانے والا یہ اتفاقِ رائے اگر جذبے کے ساتھ زمین پر نافذ کر دیا جاتا ہے تو اس سے خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی عوامی اور انتظامی تلخیاں کم ہوں گی اور قومی توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحاتی سفر کو ایک پائیدار رخ ملے گا۔