وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے غیر ملکی قرضوں میں اضافے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، حکومت کا واضح مقصد غیر ملکی قرضوں کو مزید نہ بڑھانا ہے، جبکہ قلیل مدتی اور مہنگے قرضوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں اور بجٹ خسارہ 2.5 فیصد تک لایا جا چکا ہے۔
کمیٹی کو پاکستان کے قرضوں کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی قرضوں سے متعلق بریفنگ انتہائی اہم ہے اور اندرونی و بیرونی دونوں قسم کے قرضوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان کے غیر ملکی قرضوں میں سالانہ 6 سے 7 ارب ڈالر کا اضافہ ہو رہا تھا، تاہم اب غیر ملکی قرضوں کو کم کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد واضح ہے کہ غیر ملکی قرضوں میں مزید اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت قلیل مدتی اور زیادہ لاگت والے قرضے واپس کر رہی ہے، کیونکہ قرضوں کا بار بار رول اوور کرنا ایک بڑا مالیاتی خطرہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہر تین ماہ بعد بینکوں سے رجوع کرنا پڑتا تھا، تاہم اب غیر ملکی قرضوں کی میچورٹی کی مدت بڑھانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو معاشی اشاریوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ خسارہ کم کرکے 2.5 فیصد تک لایا جا چکا ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 0.1 فیصد تک آ گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے دعا کی کہ خطے میں کشیدگی کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے دوران حکومت نے پیٹرول کے بحران پر قابو پایا اور ملک میں کسی بھی جگہ پیٹرول کے حصول کے لیے قطاریں نہیں لگیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
قرضوں کی ادائیگیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان نے 4.5 ارب ڈالر کے قرضے ادا کیے، جبکہ رواں برس قرضوں کی ادائیگی تقریباً 4 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ برس قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم مزید کم ہو کر تقریباً 3 ارب ڈالر رہ جائے گا۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت کی توجہ غیر ملکی قرضوں میں اضافہ روکنے، مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی واپسی اور قرضوں کی میچورٹی کی مدت بڑھانے پر مرکوز ہے۔
