بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد ریاست میں جاری بدامنی کے انسانی نقصانات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق منی پور میں گزشتہ تین سال سے جاری نسلی فسادات اور بدامنی کے دوران اب تک 393 افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
رواں سال بھی تشدد کی کارروائیاں جاری رہیں اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 95 تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں مئی 2023 سے اب تک عسکریت پسندی کے 181 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ مسلسل تشدد، جھڑپوں اور احتجاجی سرگرمیوں نے ریاست کی صورتحال کو بدستور کشیدہ بنا رکھا ہے۔
منی پور میں جاری مظاہروں کے دوران بی جے پی حکومت کے خلاف عوامی غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تازہ ہلاکتوں نے ایک بار پھر ریاست میں امن و امان کی صورتحال اور حکومتی اقدامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تین سال گزرنے کے باوجود منی پور میں تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر رک نہیں سکا۔ تازہ واقعات نے ریاست میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے حکومتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔