دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت  کے بھارتی دعوے  بے نقاب،منی پور تین سال سے لہولہان، 393 افراد ہلاک

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت  کے بھارتی دعوے  بے نقاب،منی پور تین سال سے لہولہان، 393 افراد ہلاک

 بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے  جس کے بعد ریاست میں جاری بدامنی کے انسانی نقصانات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق منی پور میں گزشتہ تین سال سے جاری نسلی فسادات اور بدامنی کے دوران اب تک 393 افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

رواں سال بھی تشدد کی کارروائیاں جاری رہیں اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 95 تک پہنچ گئی ہے۔

  یہ بھی پڑھیں :بھارت میں جنگ کا سماں، فسادات میں 17 افراد ہلاک، گھر جل گئے، ہزاروں بے گھر، فوج ہائی الرٹ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں مئی 2023 سے اب تک عسکریت پسندی کے 181 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ مسلسل تشدد، جھڑپوں اور احتجاجی سرگرمیوں نے ریاست کی صورتحال کو بدستور کشیدہ بنا رکھا ہے۔

منی پور میں جاری مظاہروں کے دوران بی جے پی حکومت کے خلاف عوامی غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تازہ ہلاکتوں نے ایک بار پھر ریاست میں امن و امان کی صورتحال اور حکومتی اقدامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :اڑیسہ فسادات کو 17 سال مکمل، بھارت کی خاموشی، متاثرین انصاف سے آج بھی محروم

تین سال گزرنے کے باوجود منی پور میں تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر رک نہیں سکا۔ تازہ واقعات نے ریاست میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے حکومتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔

editor

Related Articles