ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی اورایران جنگ بھاری پڑ گئی، دیہی ووٹرز نے بھی ساتھ چھوڑ دیا

ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی اورایران جنگ بھاری پڑ گئی، دیہی ووٹرز نے بھی ساتھ چھوڑ دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے دیہی علاقوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی غیر معمولی کامیابیوں نے امریکی سیاست میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 
وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایسے انتخابی حلقوں میں بھی ریپبلکن امیدواروں کو شکست دے دی جہاں برسوں سے ٹرمپ کی جماعت کا اثرورسوخ قائم تھا۔

رائٹرز کے مطابق آئیووا، کنساس، ٹیکساس اور وسکونسن سمیت متعدد ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں نے کانگریس اور گورنر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ان نتائج کو امریکی دیہی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر دیہی ووٹرز ناراض

انتخابی نتائج کے پیچھے ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسیوں اور ایران جنگ کے باعث ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کو اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ان معاشی مشکلات نے بالخصوص کسانوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو متاثر کیا۔

بڑھتے اخراجات اور معاشی دباؤ کے باعث ان علاقوں میں بھی ریپبلکن حمایت کمزور پڑتی دکھائی دی جو روایتی طور پر ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

گھر گھر رابطہ مہم نے ڈیموکریٹس کو کامیابی دلائی

ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کا ایک اہم سبب طویل المدتی تنظیم سازی اور مقامی سطح پر انتخابی رابطوں کی حکمت عملی بھی بنی۔ پارٹی نے صرف بڑے شہروں اور چند اہم ریاستوں تک اپنی سرگرمیاں محدود رکھنے کے بجائے ملک بھر کے دیہی حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے اور انتخابی مہم کو وسعت دی۔

وسکونسن میں کامیاب ڈیموکریٹک امیدوار ریبیکا کوک نے انتخابی مہم کے دوران 54 ہزار گھروں کے دروازوں پر دستک دی۔ اسی طرح آئیووا میں کرسٹینا بوہانن نے 11 ماہ تک مسلسل انتخابی رابطہ مہم جاری رکھی اور ہر ہفتے دیہی علاقوں کا دورہ کیا۔

ریپبلکنز کے لیے خطرے کی گھنٹی

کنساس میں بھی ڈیموکریٹس نے طویل عرصے تک مقامی سطح پر تنظیم سازی اور ووٹرز سے براہ راست رابطوں کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں میں سیاسی حمایت کو مستقل سمجھنا اب ریپبلکنز کے لیے آسان نہیں رہا۔

ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی اور ڈیموکریٹس کی زمینی سطح پر بڑھتی سرگرمیوں نے انتخابی منظرنامہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ کامیابیاں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے سیاسی واپسی کا اہم موقع ہیں، جبکہ ریپبلکن قیادت کے لیے اپنی معاشی پالیسیوں اور دیہی ووٹرز سے تعلقات پر نظرثانی کا پیغام بھی ہیں۔

editor

Related Articles