کراچی کے مسائل یا انتظامی ناکامی؟ شہریوں نے الگ صوبے کا مطالبہ کر دیا

کراچی کے مسائل یا انتظامی ناکامی؟ شہریوں نے الگ صوبے کا مطالبہ کر دیا

کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی، بدترین شہری مسائل اور انتظامی مشکلات نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو ایک بار پھر تقویت دے دی ہے۔ 

شہر قائد کے شہریوں نے موجودہ انتظامی نظام پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کراچی کو الگ صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے باوجود بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا نظام بہتر نہیں ہو سکا۔

گلیاں گندگی اور تباہ حال سیوریج کی نذر

کراچی کے مختلف علاقوں میں شہری سہولتوں کی خراب صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ گلیوں اور محلوں میں ترقیاتی کام دکھائی نہیں دیتے۔

  یہ بھی پڑھیں :نئے انتظامی یونٹس کا قیام، بلوچستان میں 4 نئے صوبے بنانے کے عوامی مطالبے میں شدت آگئی

 سیوریج لائنیں خراب ہیں اور کئی علاقوں میں گندگی کے ڈھیر شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ بنیادی شہری مسائل حل نہ ہونے کے باعث عوام موجودہ انتظامی نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ نئے صوبے

کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی آواز

شہریوں نے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تقاضوں کے مطابق انتظامی نظام تشکیل دیا جانا چاہیے۔

 کراچی کو بھی الگ صوبے کا درجہ دیا جائے تاکہ شہر کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات مقامی ضروریات کے مطابق چلائے جا سکیں۔

 یہ بھی پڑھیں :نئے صوبے بنائیں، اختیارات عوام تک پہنچائیں؛ قومی مباحثے میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل پر زور، سیاسی جماعتیں متفق ہو گئیں

کراچی کے شہریوں کی جانب سے سامنے آنے والا یہ مطالبہ ایک بار پھر اس بحث کو نمایاں کرتا ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ ملک کے بڑے شہروں کے بڑھتے ہوئے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

editor

Related Articles