سینئر صحافی شیراز نثار نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف سنگین اراضی کیسز، غیر اعلانیہ مالیاتی اثاثوں اور سیاسی رویوں پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے شیراز نثار نے انکشاف کیا کہ مولانا فضل الرحمان کو “ڈیزل” کا لقب 90 کی دہائی میں سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کے دوران ملا تھا جب انہیں ڈیزل کے لائسنس جاری کیے گئے تھے۔
نیب اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے بجائے مولانا ہمیشہ معاملات کو آئیں بائیں شائیں کر کے نکال دیتے ہیں۔
شیراز نثار نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کارگل کے شہدا کے بچوں کی اراضی بھی نہیں بخشی اور 64 کنال کی زمین محض 40 لاکھ روپے میں حاصل کی۔
شیراز نثار نے کہا کہ مولانا کا سیاسی رویہ اور موقف صرف اس وقت تبدیل ہوتا ہے جب آگے سے کوئی ڈیل یا “روٹی پانی” ملتا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ملک میں چلنے والے ہزاروں غیر قانونی مدارس کے سب سے بڑے سرپرست اعلیٰ ہیں اور اسلام کے نام پر سیاست اور دینی دکانداری چلا رہے ہیں۔
انٹرویو کے دوران شیراز نثار نے چیف آف آرمی اسٹاف اور نیب سے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے تمام اثاثوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ چک شہزاد میں قائم اربوں روپے کی پراپرٹیز اور ان کے قافلے میں شامل نان کسٹم پیڈ (NCP) اور غیر قانونی گاڑیوں کی آئی ایس آئی، ایم آئی اور نیب پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کے ذریعے مکمل چھان بین ہونی چاہیے تاکہ عوام کے سامنے سچائی سامنے آ سکے۔