جعلی پرچم، فرضی دستاویزات اور ایرانی تیل، امریکا نے بھارتی نیٹ ورک بے نقاب کر دیا

جعلی پرچم، فرضی دستاویزات اور ایرانی تیل، امریکا نے بھارتی نیٹ ورک بے نقاب کر دیا

واشنگٹن نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھاتے ہوئے بھارت اور ترکیہ سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں اور متعدد افراد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

 امریکی حکام کا الزام ہے کہ یہ نیٹ ورک ایرانی تیل کی تجارت اور پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف سہولتیں فراہم کر رہا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایران کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم کرنا ہے۔ اس کارروائی کے ذریعے ایران کی تیل برداری اور اس سے منسلک کاروباری سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بھارتی کاروباری نیٹ ورک امریکی پابندیوں کی زد میں

امریکی حکام نے بھارت سے تعلق رکھنے والے سنیل کمار شرما، ان کی اہلیہ جسپریت پریتی شاہد اور ان کے کاروباری نیٹ ورک سے وابستہ متعدد افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

اس کے علاوہ نیٹ ورک سے منسلک 9 اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کاروباری گروہ ایرانی تیل لے جانے والے پابندیوں کا سامنا کرنے والے بحری جہازوں کی معاونت کرتا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :فرضی جھڑپیں، جعلی ہلاکتیں؛ افغان سرزمین سے سرگرم بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کا بلوچستان کے علاقے سوراب سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب

الزام ہے کہ ان جہازوں کو جعلی قومی پرچم، رجسٹریشن اور سرٹیفکیٹس فراہم کیے جاتے تھے۔ ان دستاویزات کے ذریعے جہاز اپنی شناخت چھپا کر بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔

ترکیہ کی کمپنی بھی نشانے پر

امریکا نے ترکیہ کی کمپنی فوگو گراؤنڈ سروسز کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ مذکورہ کمپنی ایران کی پابندیوں کا شکار فضائی کمپنیوں کو زمینی اور دیگر خدمات فراہم کر رہی تھی۔ واشنگٹن کے مطابق ایسی معاونت ایرانی فضائی نیٹ ورک کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

زمینی، سمندری اور فضائی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کی حمایت کرنے والے عناصر کے خلاف ہر سطح پر کارروائی جاری رکھے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :بھارتی باوردی افراد جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا حصہ بننے لگے، عسکری سسٹم کی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا بھانڈا پھوٹ گیا

ان کے مطابق امریکی اقدامات کا دائرہ زمینی، سمندری اور فضائی سرگرمیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ نئی پابندیاں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت ایران کی تیل کی تجارت اور اس کے معاون کاروباری نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles