پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر اعظم خان نے قومی ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کے بعض مداحوں کے نامناسب رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں جاہل قرار دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض کھلاڑیوں کے مداح کرکٹ کی حمایت کے نام پر اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں، جس سے دوسرے کھلاڑیوں کو بھی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اعظم خان نے آئرلینڈ میں کھیلے گئے ایک بین الاقوامی میچ کا واقعہ بیان کیا، جس میں وہ بابر اعظم کے ساتھ بیٹنگ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت بابر اعظم تقریباً 75 رنز پر کھیل رہے تھے اور ان کی سنچری مکمل ہونے کی امید تھی۔
اعظم خان نے بتایا کہ اسی دوران سوشل میڈیا پر ان کی ایک انسٹاگرام تصویر کے نیچے ایک مداح نے انتہائی توہین آمیز اور نامناسب تبصرہ کیا۔ مداح نے انہیں دھمکی آمیز انداز میں لکھا کہ اگر انہوں نے بابر اعظم کی سنچری مکمل نہ ہونے دی تو ان کی والدہ کی موت ہو جائے گی اور والد کو کینسر ہو جائے گا۔
اعظم خان کا کہنا تھا کہ انہیں بابر اعظم یا ان کی بیٹنگ سے کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی وہ ان کی کامیابی کے مخالف ہیں، تاہم بعض کھلاڑیوں کے مداحوں کا رویہ ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق کسی کرکٹر کی حمایت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کسی کھلاڑی کو اس نوعیت کے تبصروں کا سامنا کرنا پڑے تو وہ ان مداحوں کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا۔ کرکٹ میں پسندیدہ کھلاڑی کی حمایت اپنی جگہ، لیکن دوسرے کھلاڑیوں کی تذلیل اور ان کے خاندان کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
اعظم خان نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور منفی تبصروں سے اب وہ پہلے کی طرح متاثر نہیں ہوتے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے اس طرح کے رویوں کو نظر انداز کرنا سیکھ لیا ہے اور اب مداحوں کی تنقید ان کی کارکردگی یا ذاتی زندگی پر پہلے جیسا اثر نہیں ڈالتی۔
واضح رہے کہ اعظم خان اور بابر اعظم دونوں 2024 کے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اعظم خان کے اس بیان نے کرکٹ شائقین کے رویے، سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے اور پسندیدہ کرکٹرز کی حمایت میں اخلاقی حدود عبور کرنے کے معاملے کو ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا ہے۔