بچت کرنیوالوں کے مزے، مقروضوں پر آفت، اینڈریو بیلی کی نئی وارننگ نے برطانوی عوام کے ہوش اڑا دئیے

برطانیہ میں شرح سود میں اضافے نے عوامی معیشت کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ایک طرف بچت کرنے والوں کے لیے بہتر منافع کی امید پیدا ہوئی ہے تو دوسری جانب قرض لینے والے افراد، گھر خریدنے کے خواہش مند خاندانوں اور کاروباری طبقے کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ سامنے آگیا ہے۔

مرکزی بینک کے گورنر اینڈریو بیلی کی جانب سے آئندہ مالیاتی پالیسی کے حوالے سے دیے گئے اشاروں نے بھی برطانوی عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ 
شرح سود میں تبدیلی کا اثر صرف بینکوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ گھروں کے رہن، ذاتی قرضوں، کاروباری سرمایہ کاری اور روزمرہ اخراجات تک پہنچتا ہے۔
شرح سود میں کتنا اضافہ ہوا؟
بینک آف انگلینڈ نے 4 نومبر کو ہونے والے اجلاس کے بعد بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد پوائنٹس اضافے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح شرح سود 3.75 فیصد سے بڑھ کر 4 فیصد ہوگئی۔

یہ اگست 2023 کے بعد پہلا موقع ہے جب برطانیہ کے مرکزی بینک نے شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 9 میں سے 8 ارکان نے 0.25 فیصد پوائنٹس اضافے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ایک رکن کیتھرین مان نے شرح سود میں زیادہ یعنی 0.50 فیصد پوائنٹس اضافے کی حمایت کی۔

بینک آف انگلینڈ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات برطانوی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ستمبر میں برطانیہ کی مہنگائی کی شرح 3.5 فیصد تک پہنچ گئی تھی جبکہ مرکزی بینک کا ہدف اسے 2 فیصد پر برقرار رکھنا ہے۔

مرکزی بینک کو خدشہ ہے کہ توانائی کی مہنگائی کے باعث آنے والے مہینوں میں اشیائے ضروریہ اور دیگر خدمات کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ اسی خطرے کو محدود کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا گیا ہے۔ 
 
اینڈریو بیلی کی نئی وارننگ
بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے واضح کیا ہے کہ شرح سود میں اضافے کے بعد مزید فیصلے معاشی حالات اور مہنگائی کے اعدادوشمار کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ  توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری نہ آئی اور توانائی کی قیمتیں بلند رہیں تو مستقبل میں شرح سود مزید بڑھانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

تاہم اینڈریو بیلی نے اس اضافے کو شرح سود میں مسلسل اضافے کے نئے سلسلے کا آغاز قرار نہیں دیا۔ انہوں نے کہا  کہ آئندہ فیصلوں کا انحصار توانائی کی قیمتوں، اجرتوں، کاروباری اداروں کی قیمتوں کے تعین اور مجموعی مہنگائی کے رجحان پر ہوگا۔

مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی کی شرح آئندہ سال کے وسط تک تقریباً 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی اور سخت مالیاتی پالیسی کے اثرات سے مہنگائی میں کمی آنے کی توقع ہے۔ 
 
قرض داروں پر کتنا  بوجھ پڑے گا؟
شرح سود میں اضافے کا سب سے نمایاں اثر ان افراد پر پڑنے کا امکان ہے جنہوں نے گھروں کی خریداری کے لیے بینکوں سے قرض لے رکھا ہے۔

برطانیہ میں تقریباً 8.5 ملین رہائشی مارگیج قرضوں میں سے 7.3 ملین سے زیادہ قرضے مقررہ شرح سود پر ہیں۔ ایسے صارفین کی ماہانہ اقساط فوری طور پر تبدیل نہیں ہوں گی بلکہ ان کے موجودہ معاہدے کی مدت ختم ہونے پر نئی شرح لاگو ہوسکتی ہے۔

اس کے برعکس تقریباً 510 ہزار افراد ایسے ہیں جن کے مارگیج قرضوں کی شرح مرکزی بینک کی بنیادی شرح سے منسلک ہے۔ ان کی ماہانہ ادائیگیوں میں فوری اضافہ ہوسکتا ہے۔

برطانوی مالیاتی ادارے یوکے فنانس کے تخمینے کے مطابق 147 ہزار پاؤنڈ کے بقایا قرض والے ایک عام ٹریکر مارگیج صارف کو نئی شرح سود کے باعث ماہانہ تقریباً 30.72 پاؤنڈ اضافی ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔

اسی طرح متغیر شرح سود پر قرض لینے والے صارفین کے لیے بھی ماہانہ اقساط بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم اس کا انحصار متعلقہ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کو صارفین تک منتقل کرنے پر ہوگا۔ 
 
بچت کرنے والوں کے لیے خوشخبری؟
شرح سود میں اضافے کا ایک دوسرا رخ ان افراد کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے جنہوں نے بینکوں میں اپنی رقم جمع کر رکھی ہے۔

بنیادی شرح سود بڑھنے سے بینکوں پر بچت کھاتوں اور دیگر ڈپازٹس پر منافع بڑھانے کا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح مقررہ شرح کے بغیر بچت اکاؤنٹس رکھنے والے افراد کو بہتر منافع ملنے کی امید ہے۔

تاہم بینکوں کے لیے یہ لازمی نہیں کہ وہ شرح سود میں ہونے والے پورے اضافے کا فائدہ صارفین کو منتقل کریں۔ بعض مالیاتی ادارے بچت پر منافع میں معمولی اضافہ کرسکتے ہیں جبکہ کچھ ادارے اپنی شرحیں برقرار بھی رکھ سکتے ہیں۔

اس وقت برطانیہ میں فوری رقم نکلوانے کی سہولت والے بچت کھاتوں کی اوسط شرح تقریباً 2.58 فیصد بتائی گئی ہے جبکہ بعض بہترین دستیاب کھاتوں پر 5 فیصد تک منافع پیش کیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles