ایران کی جانب سے امریکا کو جوہری معاہدے کی نئی تجاویز، 7 سخت شرائط سامنے آ گئیں

ایران کی جانب سے امریکا کو جوہری معاہدے کی نئی تجاویز، 7 سخت شرائط سامنے آ گئیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید سفارتی کشیدگی کے درمیان ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے حوالے سے ایک نہایت اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

تہران انتظامیہ نے واشنگٹن کو جوہری معاہدے کی بحالی اور خطے میں جنگ بندی کے لیے 7 سخت شرائط پر مشتمل ایک نیا اور تفصیلی تجاویز کا مسودہ ارسال کر دیا ہے،  ان تجاویز کا بنیادی مقصد اپنے ایٹمی پروگرام سے متعلق تحفظات کو دور کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کو کم کر کے مذاکرات کی نئی راہ ہموار کرنا ہے۔

 تہران کی تجاویز قطر کے ذریعے واشنگٹن منتقل

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ  یہ اہم ترین سفارتی دستاویز قطر کے ثالثی کردار کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی ہے ،  فی الوقت واشنگٹن میں ان تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم امریکی انتظامیہ نے ابھی تک ایران کی ان 7 شرائط کو تسلیم کرنے یا مسودے کی باضابطہ منظوری کی تصدیق نہیں کی ہے۔

تہران کے 7 ناقابلِ تسلیم مطالبات

تہران کی جانب سے پیش کردہ مسودے میں درج ذیل 7 سخت مطالبات شامل کیے گئے ہیں۔

تمام محاذوں پر جنگ کا فوری خاتمہ : ایران، لبنان اور خطے کے دیگر محاذوں پر جاری تمام جنگی اور عسکری کارروائیوں کا مکمل خاتمہ۔

امریکی بحری ناکہ بندی کا اٹھایا جانا : ایرانی بندرگاہوں اور سمندری راستوں پر عائد امریکی بحری پابندیوں کی برخاستگی۔

اقتصادی و تجارتی تعزیرات کا خاتمہ: ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے والی تمام امریکی پابندیوں کو غیر مشروط طور پر ختم کرنا۔

منجمد شدہ اربوں ڈالر کے اثاثوں کی واگزاری: بیرونِ ملک مختلف بینکوں میں رکھے گئے ایرانی مالیاتی اثاثوں کی فوری بحالی۔

مشرقِ وسطیٰ سے امریکی عسکری موجودگی میں کمی: خطے میں امریکی فوج کی تعداد میں بڑی حد تک کمی لائی جائے۔

جنگی نقصانات کا ہرجانہ اور معاوضہ : ایران پر جنگ کے دوران ہونے والے تمام معاشی و جانی نقصانات کا امریکی انتظامیہ کی جانب سے معاوضہ۔

ایرانی سر زمین پر حملوں کی مکمل بندش: ایرانی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے اس کی حدود میں کسی بھی قسم کی کارروائی کا خاتمہ۔

محسن رضائی کا دوٹوک موقف 

اس حوالے سے ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے اپنے دورۂ روس کے موقع پرمیڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے موقف کی شدت کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے سفارت کاری کی میز پر امریکیوں کے سامنے اپنی 7 شرائط رکھ دی ہیں ، جب تک واشنگٹن ان تمام شرائط پر عمل درآمد نہیں کرتا، نہ تو آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کے براہ راست مذاکرات ہوں گے۔”

امریکی ترجیحات اور انتخابات

ایک طرف ثالث کار ملکوں کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، تو دوسری جانب امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد حالات کے مزید بگڑنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کے بعد کارروائی کے امکانات کو رد نہیں کیا، جس کے جواب میں ایران نے سنگین نتائج اور بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی تنبیہ کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے شرائط امریکا کو دیدیں مگر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ، محسن رضائی

علاوہ ازیں، واشنگٹن کا موقف ہے کہ ابتدائی گفتگو میں ہی ایران کے تمام جوہری امور کو شامل کرنا لازمی ہے، جبکہ تہران پہلے اپنی شرائط کی منظوری پر بضد ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

editor

Related Articles