60 ہزار کھٹملوں کے ساتھ سونے والا سائنسدان، آخر ایسا کیوں کرتا ہے؟

60 ہزار کھٹملوں کے ساتھ سونے والا سائنسدان، آخر ایسا کیوں کرتا ہے؟

کھٹملوں کا نام سنتے ہی بیشتر افراد کو نیند اڑنے لگتی ہے، لیکن برطانیہ میں ایک سائنسدان ایسا بھی ہے جو جان بوجھ کر ہزاروں کھٹملوں کو اپنے جسم سے چمٹاتا ہے اور ان کے ساتھ سوتا بھی ہے۔ اس عجیب و غریب عمل کا مقصد سائنس اور تحقیق ہے۔

برطانیہ کے علاقے گلوسٹر شائر سے تعلق رکھنے والے ماہر حیاتیات ڈاکٹر رچرڈ نیلور کھٹملوں کے خلاف مؤثر ادویات اور دیگر مصنوعات کی جانچ کے لیے ان کی افزائش کرتے ہیں۔ ان کے پاس تقریباً 60 ہزار کھٹمل موجود ہیں۔

ڈاکٹر رچرڈ ہفتے میں 2 مرتبہ ان کھٹملوں میں سے کچھ کو ایک خاص پٹی کے ذریعے اپنے بازوؤں کے ساتھ باندھ لیتے ہیں تاکہ وہ ان کا خون چوس سکیں۔ اس دوران وہ معمول کے مطابق اپنا کام بھی جاری رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چیٹ جی پی ٹی کا نیا کمال، اب تصاویر بھی حرکت کریں گی،نیا فیچر آگیا

کھٹملوں کے ساتھ سونے کی وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر رچرڈ کے مطابق جب انہیں کسی نئی دوا، اسپرے یا کھٹملوں سے بچاؤ کی ڈیوائس کی افادیت جانچنی ہوتی ہے تو وہ رات کو ان کیڑوں کے ساتھ سوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے باغ میں 2 خصوصی کمرے بھی تعمیر کر رکھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کھٹمل انہیں لاکھوں مرتبہ کاٹ چکے ہیں، لیکن اب ان کے جسم پر ان کے کاٹنے کا پہلے جیسا اثر نہیں ہوتا۔ تاہم بعض اوقات خون کی کمی جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔

فارسٹ آف ڈین، گلوسٹر شائر میں رہنے والے ڈاکٹر رچرڈ ایک غیر منافع بخش ادارہ ’بیڈ بگ فاؤنڈیشن‘ بھی چلاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی اس ادارے کے کام میں ان کا ساتھ دیتی ہیں۔

ڈاکٹر رچرڈ کے مطابق وہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے کھٹملوں کو اپنا خون پینے دے رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کے مدافعتی نظام کا ردعمل تبدیل ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خاتون کاروباری شخصیت کا بڑا سرپرائز، ملازماؤں میں لاکھوں روپے مالیت کے فولڈ ایبل آئی فونز تقسیم

انسان کے بغیر کھٹملوں کی جانچ کیوں ممکن نہیں؟

ڈاکٹر رچرڈ 2001 سے کھٹملوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر گھر کے باغ میں ایک لیبارٹری بھی قائم کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ لوگوں کو اپنے اس کام کے بارے میں بتاتے ہیں تو اکثر افراد بے اختیار اپنا جسم کھجانے لگتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ یہ سن کر خوفزدہ بھی ہوجاتے ہیں۔

ڈاکٹر رچرڈ کے مطابق کھٹملوں سے بچاؤ کے لیے تیار کی جانے والی مصنوعات کی درست جانچ کے لیے ضروری ہے کہ ان کیڑوں کو انسان کی موجودگی میں آزمایا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر بستر پر کوئی انسان موجود نہ ہو تو کھٹمل زیادہ حرکت نہیں کرتے، کیونکہ انسانی سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسم کی حرارت انہیں متحرک کرتی ہے۔ اسی لیے وہ خود ان کے ساتھ سوتے ہیں تاکہ نئی مصنوعات کی افادیت کا حقیقی حالات میں جائزہ لے سکیں۔

editor

Related Articles