خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، پولیو ٹیم پر حملے کی کوشش ناکام، مطلوب کمانڈر ’ابو دجانہ خیبری‘ سمیت فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگرد ہلاک
Home - اہم خبریں - خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، پولیو ٹیم پر حملے کی کوشش ناکام، مطلوب کمانڈر ’ابو دجانہ خیبری‘ سمیت فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے اضلاع خیبر اور بنوں میں انٹیلی جنس پر مبنی کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے پولیو ٹیم پر حملے کی سازش ناکام بنا دی اور ایک اہم کمانڈر سمیت فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کے حساس علاقے چھپری میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم اور بروقت آپریشن کیا۔
اس کارروائی کے دوران ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر کو ہلاک کر دیا گیا جس کی شناخت مشرف عرف ابو دجانہ خیبری کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ کمانڈر علاقے میں بچوں کو قطرے پلانے میں مصروف پولیو ٹیم پر حملے کے لیے گھات لگائے بیٹھا تھا کہ فورسز نے اس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
معلوم ہوا ہے کہ ضلع خیبر میں پچھلے 3 روز سے 3 روزہ پولیو انسداد مہم جاری ہے، جس کے دوران سیکیورٹی خطرات کے باوجود ہیلتھ ورکرز بچوں کو معذوری سے بچانے کی قومی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔
اغوا شدہ پولیو سپروائزر کی بازیابی
سیکیورٹی ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ 3 روز قبل دہشتگردوں نے چھپری کے علاقے ہی سے ایک پولیو سپروائزر کو اغوا کر لیا تھا، جس کے بعد علاقے میں انسدادِ پولیو مہم اور ورکرز کی تحفظ سے متعلق شدید تشویش لہر دوڑ گئی تھی۔
تاہم مقامی سطح پر ہونے والے مذاکرات اور سفارتی کاؤشوں کے بعد مغوی سپروائزر کو بحفاظت حاصل کر لیا گیا، جس کے فوراً بعد فورسز نے دہشت گردوں کا سراغ لگا کر اس اہم کمانڈر کو جہنم واصل کیا۔
بنوں میں کارروائی اور بھاری اسلحہ کی برآمدگی
خیبر پختونخوا کے ایک اور اہم ضلع بنوں میں بھی فتنہ الخوارج دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک اور کامیاب آپریشن میں مزید 4 دہشتگردوں کو مار گرایا۔
ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور جدید جنگی سامان برآمد ہوا ہے۔ واقعے کے فوری بعد علاقے کی گھیرا بندی کر کے دیگر ممکنہ دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیشِ نظر سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی
خیبر پختونخوا کے قبائلی اور جنوبی اضلاع میں پولیو ٹیموں کو نشانہ بنانا اور مقامی عملے کو اغوا کرنا دہشتگرد تنظیموں کا پرانا اور ہتھکنڈا رہا ہے۔
ماضی میں بھی انسدادِ پولیو مہمات کو سبوتاژ کرنے کے لیے پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس و سیکیورٹی اہلکاروں پر بزدلانہ حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ فورسز ان تمام چیلنجز کے باوجود صوبے میں امن و امان کی بحالی اور قومی پولیو مہم کے ہموار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
خیبر پختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں یکے بعد دیگرے سیکیورٹی فورسز کے یہ کامیاب آپریشنز قومی رؤیا ’عزمِ استحکام‘ کی عملی تاثیر اور فورسز کی انٹیلی جنس صلاحیتوں کا روشن ثبوت ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب دہشتگرد نیٹ ورک شہریوں اور صحت عامہ کے عملے میں خوف و ہراس پھیلا کر ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ابو دجانہ خیبری جیسے سینیئر کمانڈر کا مارا جانا دہشت گردوں کے ڈھانچے کے لیے ایک کاری ضرب ہے۔
بنوں اور خیبر میں بیک وقت بر وقت کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فورسز صرف دفاعی انداز اختیار نہیں کر رہیں بلکہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے جارحانہ انداز میں پیشگی حملے ناکام بنا رہی ہیں۔
اس پائیدار پیشرفت سے نہ صرف انسدادِ پولیو کے عالمی عمل کو تحفظ ملے گا بلکہ صوبے میں دائمی امن کے قیام اور شدت پسندوں کے قلع قمع کے لیے جاری قومی عزم کو مزید مضبوطی حاصل ہوگی۔