جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود پر 18,499 امریکی ڈالر کی رولکس گھڑی توشہ خانہ میں جمع نہ کروانے کے الزامات کے بعد سرکاری ریکارڈ اور نیب انکوائریز کے حقائق سامنے آ گئے ہیں۔
سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ شدید الزامات گردش کرتے رہے ہیں کہ سابق وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود نے 18 جنوری 2023 کو ملنے والی قیمتی رولکس گھڑی، جس کی مالیت تقریباً 51 لاکھ پاکستانی روپے (18,499 ڈالر) بنتی ہے، توشہ خانہ میں جمع نہیں کروائی اور اسے ذاتی منفعت کے لیے استعمال کیا۔
ان الزامات میں کہا گیا کہ یہ کارروائی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور مالی بے ضابطگی کے زمرے میں آتی ہے۔
تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے عام کیے گئے 2002 سے 2023 تک کے توشہ خانہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
ریکارڈ کے مطابق مولانا اسعد محمود کو اپنی وزارت کے دوران غیر ملکی دوروں پر ملنے والی گھڑیاں اور دیگر تمام تحائف باقاعدہ طور پر کابینہ ڈویژن کے پاس رپورٹ اور ڈکلیئر کیے گئے تھے۔
توشہ خانہ کے قانونی ضوابط اور کاغذی طریقہ کار
کابینہ ڈویژن کے قوانین کے مطابق کسی بھی پبلک آفس ہولڈر، بشمول وزرا اور وزرائے اعظم، کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی اطلاع دینا قانونی طور پر لازمی ہوتا ہے۔
پبلک کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق قانون کے تحت طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے مخصوص فیصد رقم کی ادائیگی کے بعد یا قوانین کی اجازت کے مطابق تحائف کو اپنے پاس رکھا جا سکتا ہے یا سرکاری خزانے میں جمع کروایا جاتا ہے۔
پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں پر نیب اور ایف آئی اے کی انکوائری
توشہ خانہ معاملے کے ساتھ ساتھ سابق وزیر مواصلات اس وقت ایک اور بڑے قانونی اور انتظامی چیلنج کا شکار ہیں۔ ان کے خلاف توشہ خانہ کے بجائے پاکستان پوسٹ میں مبینہ طور پر ہزاروں غیر قانونی بھرتیوں اور دیگر سنگین مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر رکھا ہے۔
تحقیقاتی اداروں نے ان بھرتیوں کے معاملے پر مولانا اسعد محمود کو باقاعدہ طلبی کے نوٹسز بھی جاری کر رکھے ہیں، جس میں ان سے متعلقہ وزارتی دور کے ریکارڈ اور بھرتیوں کے عمل کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
سیاسی احتساب اور وزارتی کارکردگی کا جائزہ
پاکستان میں توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک ہونے کے بعد جہاں شفافیت کے عمل کو تقویت ملی ہے، وہاں سیاسی شخصیات کے سرکاری دوروں اور تحائف کے معاملے پر عوامی سطح پر بحث میں بھی شدت آئی ہے۔
سیاسی قیادت کو ملنے والے تحائف کا حساب کتاب عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری عنصر بن چکا ہے۔
دوسری جانب وزارتی عہدوں کے دوران محکموں میں کی جانے والی تقرریاں اور انکوائریز اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بیوروکریٹک اور انتظامی فیصلوں میں قانونی تقاضوں کی پاسداری کس قدر اہم ہے۔
نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے پاکستان پوسٹ کیس میں کارروائی سیاسی اور انتظامی احتساب کے اس نظام کا حصہ ہے جو آنے والے دنوں میں مولانا اسعد محمود کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
