2018 کا بال ٹیمپرنگ اسکینڈل پھر زندہ، عثمان خواجہ نے بڑا انکشاف کردیا

2018 کا بال ٹیمپرنگ اسکینڈل پھر زندہ، عثمان خواجہ نے بڑا انکشاف کردیا

آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ نے 2018 کے مشہور بال ٹیمپرنگ اسکینڈل سے متعلق اہم انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی افریقا کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے معاملے سے پوری آسٹریلوی ٹیم آگاہ تھی۔

عثمان خواجہ کے مطابق بال ٹیمپرنگ کا یہ عمل صرف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ تک محدود نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے گکیبرہا میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران بھی ایسا کیا گیا تھا۔

انہوں نے یہ تفصیلات اپنی خودنوشت سوانح عمری ’صبر‘ میں بیان کی ہیں، جو منگل کو شائع ہوگی۔ اخبارات کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں صرف اسٹیون اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ ہی نہیں بلکہ پوری ٹیم شامل تھی۔

یہ بھی پڑھیں:عروج کے بجائے کرکٹ سے کنارہ کشی، 28 سالہ کرکٹر کا حیران کن فیصلہ

ان کے مطابق وہ چاہتے تھے کہ اس معاملے میں اجتماعی ذمہ داری قبول کی جائے، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی جانتے تھے کہ گیند کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے۔ تاہم کارروائی صرف 3 کھلاڑیوں کے خلاف ہوئی، جنہیں طویل عرصے تک تنقید اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تحقیقات کے دوران عثمان خواجہ کا بیان کیوں نہیں لیا گیا؟

عثمان خواجہ نے ایک اور اہم بات بتاتے ہوئے کہا کہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران وہ کیمرون بینکرافٹ کے ساتھ ڈریسنگ روم میں بیٹھتے تھے، لیکن کرکٹ آسٹریلیا کی تحقیقات کے دوران ان کا بیان تک نہیں لیا گیا۔

خواجہ کے مطابق انہیں یقین تھا کہ اگر ان سے پوچھ گچھ کی جاتی تو وہ حقیقت بتاتے۔ یاد رہے کہ 2018 کے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے بعد اسٹیون اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر پر ایک، ایک سال جبکہ کیمرون بینکرافٹ پر نو ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ادارہ اس وقت کی گئی تحقیقات اور ان کے نتائج سے مطمئن ہے۔ عثمان خواجہ نے جنوبی افریقی ٹیم پر بھی گیند کی حالت تبدیل کرنے کے لیے غیر روایتی طریقے استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات ان کی کتاب میں شامل ہیں۔

editor

Related Articles