اقوام متحدہ کے امن مشنز کے بجٹ میں کٹوتی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن جائے گی، فیصلہ پر نظر ثانی ہونی چاہیے، پاکستان

اقوام متحدہ کے امن مشنز کے بجٹ میں کٹوتی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن جائے گی، فیصلہ پر نظر ثانی ہونی چاہیے، پاکستان

پاکستان نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ مالی بحران اور اخراجات میں کمی کے نام پر امن مشنز کی صلاحیتیں کمزور نہ کی جائیں، کیونکہ وسائل میں کٹوتی عالمی امن و سلامتی کے قیام کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسلام آباد نے امن مشنز کے لیے سیاسی عزم، مناسب وسائل، اہلکاروں کی حفاظت اور اصلاحات کو ناگزیر قرار دے دیا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ مالی مشکلات اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کے باعث عالمی امن مشنز کی عملی صلاحیتوں کو کمزور نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی عالمی تنظیم کی استعداد متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے امن مشنز میں اصلاحات کے لیے 6 ترجیحات پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کارکردگی بہتر بنانے اور اخراجات میں کمی کا مقصد ان مشنز کی بنیادی صلاحیتوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ مزید مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی چوتھی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ حالات کا تقاضا ہونے پر امن مشنز جیسے اہم عالمی ادارہ جاتی نظام کو استعمال کرنے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ میں پاکستان کی بڑی کامیابی، تین قراردادیں اکثریت سے منظور،مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ پڑا

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے امن مشنز کو مالی وسائل کی کمی، سیاسی اختلافات اور پیچیدہ سیکیورٹی حالات کا سامنا ہے۔

جنرل اسمبلی نے 2026-27 کے لیے امن مشنز کا5.1 ارب ڈالر کا بجٹ منظور کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد کم ہے۔

 گزشتہ سال مالی بحران کے باعث اقوام متحدہ کو مشنز کے اخراجات محدود کرنے اور تعینات یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں کی تعداد میں ایک چوتھائی کمی کرتے ہوئے انہیں واپس بلانے پر بھی مجبور ہونا پڑا تھا۔

امن مشنز کے بجٹ میں 10 فیصد کمی، پاکستان کا عالمی ادارے کو انتباہ

اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے منظور کیے گئے نئے بجٹ نے عالمی سطح پر ان کارروائیوں کی مستقبل کی صلاحیتوں سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

جنرل اسمبلی کی جانب سے 2026-27 کے لیے5.1 ارب ڈالر کی منظوری گزشتہ سال کے مختص بجٹ سے تقریباً 10 فیصد کم ہے۔

اس کمی کے اثرات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب دنیا کے مختلف خطوں میں مسلح تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی کے پیچیدہ مسائل کے باعث اقوام متحدہ کے امن مشنز کی اہمیت برقرار ہے۔

گزشتہ سال پیدا ہونے والے مالی بحران کے نتیجے میں اقوام متحدہ کو امن کارروائیوں کے اخراجات کم کرنا پڑے تھے۔

اس کے علاوہ مختلف مشنز میں تعینات یونیفارم میں ملبوس فوجی اور پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد میں تقریباً 25 فیصد کمی کرکے انہیں واپس بلایا گیا تھا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ مالی وسائل کی کمی کو امن مشنز کی عملی ضروریات طے کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔

اس کے بجائے پہلے سیاسی مقاصد اور مشن کی ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے، اس کے بعد مطلوبہ اہلکاروں، سازوسامان اور مالی وسائل کی ضروریات پوری کی جائیں۔

پاکستان کی 6 نکاتی اصلاحاتی تجاویز

سفیر سید حیدر شاہ نے سیکریٹری جنرل کی جانب سے امن مشنز کے جائزے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اصلاحات کے لیے پاکستان کی 6 بنیادی ترجیحات پیش کیں۔

ان ترجیحات میں سیاسی حل کو اولین اہمیت دینا، امن مشنز کے لیے واضح اور مخصوص ذمہ داریوں کے ساتھ مناسب وسائل کی فراہمی، امن کارروائیوں کی ادارہ جاتی خوبیوں کا تحفظ، مستقبل کی فوجی اور پولیس ضروریات کے لیے تیاری، امن اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی بہتر بنانا اور امن مشنز کو اقوام متحدہ کی اجتماعی ذمہ داری کے طور پر برقرار رکھنا شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان اور اقوام متحدہ کے اشتراک سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور

پاکستان نے واضح کیا کہ امن مشنز کی اصلاحات کا مقصد ان کی کارکردگی میں بہتری، بدلتے حالات سے مطابقت اور ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی ہونا چاہیے۔

سفیر سید حیدر شاہ کے مطابق بنیادی مسئلہ امن مشنز کو تفویض کی جانے والی ذمہ داریوں اور انہیں فراہم کیے جانے والے وسائل کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔

اگر مشنز کو وسیع ذمہ داریاں سونپی جائیں لیکن ان کے لیے مطلوبہ افرادی قوت، سازوسامان اور مالی وسائل فراہم نہ کیے جائیں تو ان سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سیاسی مقاصد کے مطابق امن مشنز کے وسائل مختص کرنے پر زور

پاکستان نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کہیں مالیاتی حدود اور بجٹ میں کٹوتیاں امن مشنز کی عملی ضروریات کا تعین کرنے کا ذریعہ نہ بن جائیں۔

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ کسی بھی مشن کو پہلے سیاسی مقاصد اور متوقع نتائج کی بنیاد پر ذمہ داریاں تفویض کی جانی چاہییں۔

اس کے بعد ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے درکار فوجی و پولیس اہلکاروں، سازوسامان اور مالی وسائل کا تعین کیا جانا چاہیے۔

امن مشنز تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں استحکام پیدا کرنے، شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی برقرار رکھنے اور متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم ان مقاصد کا حصول صرف فوجی یا پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے مؤثر سیاسی عمل، واضح مینڈیٹ اور مناسب عملی صلاحیتوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہونا ضروری ہے۔

پاکستان نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے امن مشنز کی ان منفرد خصوصیات کا تحفظ کریں جو انہیں دیگر بین الاقوامی یا علاقائی انتظامات سے ممتاز بناتی ہیں۔

ان خصوصیات میں عالمی سطح پر قانونی اور سیاسی جواز، مالی وسائل کی قابل پیش گوئی فراہمی، مستحکم کمانڈ اور لاجسٹکس کا نظام، اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے اہلکاروں اور خصوصی صلاحیتوں کے حصول کی سہولت شامل ہے۔

مزید پڑھیں:پاک اقوام متحدہ کانفرنس کا دوسرا روز،خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع اور سیلاب کی پیش گوئی بہتر بنانے پر غور

سفیر سید حیدر شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کارکردگی میں بہتری اور اخراجات میں کمی کے اقدامات سے امن مشنز کو مضبوط ہونا چاہیے، نہ کہ ان صلاحیتوں کو ختم کیا جائے جو انہیں منفرد اہمیت فراہم کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی 6 دہائیوں پر محیط خدمات

پاکستان اقوام متحدہ کے سب سے بڑے اور طویل عرصے سے امن مشنز میں حصہ لینے والے ممالک میں شامل ہے۔

گزشتہ6  دہائیوں کے دوران 170,000 سے زیادہ پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار اقوام متحدہ کے مختلف امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران پاکستان کے183  اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔

پاکستان کی یہ خدمات عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اس کے مسلسل کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔

پاکستان نہ صرف امن مشنز میں اہلکار فراہم کرتا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کی میزبانی بھی کرتا ہے، جو خطے میں اقوام متحدہ کی موجودگی اور نگرانی کے نظام کا اہم حصہ ہے۔

پاکستانی مندوب کی جانب سے امن مشنز کی صلاحیتیں برقرار رکھنے پر زور دینے کو اس کے طویل تجربے اور ان کارروائیوں میں مسلسل شمولیت کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امن اہلکاروں پر حملوں کے خلاف احتساب، پاکستان اور ڈنمارک کا اہم کردار

پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے معاملے کو بھی اپنی مداخلت کا اہم حصہ بنایا۔

اس سلسلے میں پاکستان نے ڈنمارک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ قرارداد ریکارڈ 153 شریک سرپرست ممالک کی حمایت کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔

قرارداد کا بنیادی مقصد اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر جواب دہی اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اٹھاتا رہا ہے اور امن اہلکاروں پر حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

سفیر سید حیدر شاہ نے امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر جواب دہی سے متعلق سیکریٹری جنرل کی پہلی رپورٹ کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے اس معاملے پر معاون سیکریٹری جنرل الزبتھ سپیہر کی بطور سینئر فوکل پوائنٹ تقرری کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔

پاکستان نے قرارداد 2823 پر مؤثر عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کو مضبوط بنایا جائے، مقدمات کی پیش رفت پر بہتر نظر رکھی جائے اور رکن ممالک کی قومی سطح پر ان جرائم کی تحقیقات اور مقدمات چلانے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کی جائے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ امن اہلکاروں پر حملوں کے ذمہ داروں کو سزا ملنا ضروری ہے، تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

امن مشنز کی پالیسی سازی میں خصوصی کمیٹی کی اہمیت

پاکستان نے امن مشنز سے متعلق خصوصی کمیٹی کو بھی اہمیت دینے پر زور دیا، جسے ‘سی 34′ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ کمیٹی اقوام متحدہ کا عالمی سطح پر نمائندہ بین الحکومتی فورم ہے، جہاں رکن ممالک اجتماعی مشاورت کے ذریعے امن مشنز کی پالیسی اور مستقبل کی حکمت عملی تشکیل دیتے ہیں۔

پاکستان کے مطابق اس کمیٹی میں اتفاق رائے اور قرارداد 2823 کے لیے وسیع حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ رکن ممالک اب بھی اقوام متحدہ کے امن مشنز کو بین الاقوامی تعاون کا ایک اہم اور مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔

پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امن مشنز کی پالیسی سازی اور اصلاحات میں تمام رکن ممالک کی اجتماعی شمولیت برقرار رہنی چاہیے، کیونکہ عالمی امن و سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

بدلتے عالمی حالات میں اقوام متحدہ کے امن مشنز کی ضرورت برقرار

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کی جانب بھی توجہ دلائی کہ دنیا کے مختلف خطوں میں علاقائی انتظامات اور عارضی نوعیت کی کارروائیوں پر بڑھتا ہوا انحصار اقوام متحدہ کی قابل اعتماد زمینی موجودگی کی ضرورت کو کم نہیں کرتا۔

موجودہ عالمی حالات میں سیاسی تقسیم، علاقائی تنازعات اور سکیورٹی کے پیچیدہ مسائل نے امن مشنز کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔

ایسے حالات میں اقوام متحدہ کی عالمی قانونی حیثیت، اجتماعی مالی معاونت اور مشترکہ کمانڈ کا نظام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

اگر مالی مشکلات کے باعث امن مشنز کی صلاحیتیں محدود کر دی جائیں تو ان علاقوں میں شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی کی نگرانی اور سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان اصلاحات کی حمایت کے باوجود اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اخراجات میں کمی کو ادارہ جاتی کمزوری کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

مالی کٹوتیوں اور عالمی امن کی ذمہ داریوں میں توازن ضروری

اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لیے بجٹ میں کمی محض مالیاتی معاملہ نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے نظام کی مستقبل کی صلاحیتوں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

ایک طرف اقوام متحدہ کو مالی وسائل کی کمی اور رکن ممالک کی جانب سے اخراجات محدود کرنے کے دباؤ کا سامنا ہے، تو دوسری جانب عالمی تنازعات اور پیچیدہ سکیورٹی حالات کے باعث امن مشنز کی ذمہ داریاں کم ہونے کے بجائے مزید اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات، شہباز شریف کا مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر دوٹوک مؤقف

اس صورت حال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کم وسائل کے ساتھ امن مشنز سے وہی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جن کی توقع ان سے کی جاتی ہے؟

پاکستان کا مؤقف اسی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر کسی مشن کو شہریوں کا تحفظ، جنگ بندی کی نگرانی اور سیاسی عمل کی معاونت جیسی ذمہ داریاں دی جائیں لیکن اس کے پاس مطلوبہ اہلکار، تربیت، سازوسامان اور لاجسٹک سہولتیں موجود نہ ہوں تو اس کی کامیابی کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر مؤثر احتساب نہ ہونا بھی مستقبل میں امن مشنز کی ساکھ اور اہلکاروں کے تحفظ کو متاثر کر سکتا ہے۔

قرارداد 2823 پر عمل درآمد اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مؤثر تحقیقات اور قانونی کارروائیاں امن اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ حملہ آوروں کے لیے جواب دہی کا واضح پیغام بھی ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اصلاحات کی 6 ترجیحات پیش کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام آباد امن مشنز کو صرف مالی معاونت فراہم کرنے کے بجائے ان کی پالیسی، عملی صلاحیتوں اور ادارہ جاتی مستقبل کے تحفظ میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کا واضح پیغام، امن مشنز کی ضرورت دوبارہ بھی پڑے گی

اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر سید حیدر شاہ نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کو عالمی امن و سلامتی کے قیام کا ایک اہم، مؤثر اور کم لاگت ذریعہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی دنیا کو اس اہم نظام کی ضرورت پڑے گی، اس لیے ضروری ہے کہ جب بھی حالات اس کے استعمال کا تقاضا کریں تو اقوام متحدہ کے امن مشنز پوری طرح تیار ہوں۔

پاکستان کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ عالمی امن کے لیے قائم کیے گئے ادارہ جاتی نظام کو مالی دباؤ کے باعث کمزور کرنے کے بجائے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، تاکہ اقوام متحدہ تنازعات کے حل، شہریوں کے تحفظ اور عالمی استحکام کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں جاری رکھ سکے۔

Related Articles