مارکہ حق پر عالمی سطح کی اہم کتاب منظر عام پر آگئی، پاکستان کی دفاعی برتری اور بھارتی جارحیت کے حقائق قلمبند

مارکہ حق پر عالمی سطح کی اہم کتاب منظر عام پر آگئی، پاکستان کی دفاعی برتری اور بھارتی جارحیت کے حقائق قلمبند

ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (MiTE) اور سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز سندھ (CISSS) کے اشتراک سے کتاب مارکہ حق ڈیٹرنس اشتعال انگیزی اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک پختگی  کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس میں سابق وفاقی وزیر و سینیٹر جاوید جبار نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد کڈوائی نے کلیدی خطاب کیا۔

5 نومبر 2026 کو MiTE میں منعقدہ تقریب کی مشترکہ میزبانی ریکٹر MiTE پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر CISSS سفیر (ر) قاضی خلیل اللہ نے کی۔ تقریب میں سابق سفارت کاروں، اعلیٰ عسکری شخصیات، جامعات کے وائس چانسلرز، پالیسی ماہرین، اساتذہ، طلبہ اور میڈیا نمائندگان سمیت 200 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

کتاب میں سینئر عسکری قیادت، سفارت کاروں اور دانشوروں کی تحریروں کے ذریعے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال، پاکستان اور بھارت کے تعلقات، مئی 2025 کی مارکہ حق جنگ سے پہلے اور بعد کے حالات، جوہری ڈیٹرنس، بھارتی عسکری حکمت عملی اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں بھارت کی مبینہ فالس فلیگ کارروائیوں، ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، ہندوتوا سے متاثرہ سیاسی قیادت، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے معاملات بھی شامل ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر (ر) قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں مارکہ حق پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ثابت ہوئی، جس میں قومی اتحاد، استقامت اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا گیا۔ جوہری صلاحیت کے حامل بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف شروع کی گئی چار روزہ جنگ میں مسلح افواج پاکستان نے غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ مقامی سطح پر تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی نے جنگ کے دوران پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں اہم کردار ادا کیا اور بھارتی آپریشن سندور ناکامی سے دوچار ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مکمل دفاعی ڈیٹرنس نے بھارتی جارحیت کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکے رکھا۔ مارکہ حق میں پاکستان کی کامیابی نے عالمی سطح پر ملک کا سفارتی تشخص بھی مستحکم کیا اور پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کردار ادا کرنے والے ملک، قابل اعتماد دفاعی شراکت دار اور جدید عسکری ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر سامنے آیا۔

کتاب کے مدیر ڈاکٹر ظفر خان نے کہا کہ اس کتاب کا مقصد جنوبی ایشیا میں دباؤ، ڈیٹرنس اور بحرانوں کے دوران ریاستوں کے رویوں کے بدلتے ہوئے رجحانات کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ کتاب میں پاکستان کی اسٹریٹجک تحمل کی پالیسی کا جائزہ لینے کے ساتھ بھارت کے یکطرفہ اقدامات، غیر ذمہ دارانہ جوہری رویے اور گمراہ کن اطلاعاتی مہم سے پیدا ہونے والے خطرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

بشریٰ بی بی کی بینائی سے متعلق دعوے سامنے آگئے، بیانِ حلفی اور طبی ریکارڈ کے حصول کے لیے درخواست دائر

کلیدی خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے اپنے باب ’’جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس استحکام کا ازسرنو جائزہ، مئی 2025 کے بحران سے حاصل ہونے والے اسباق‘‘ کے اہم نکات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اسٹریٹجک سوچ، جوہری پالیسی، عسکری نظریات اور مودی کے نام نہاد نئے معمول نے جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس کے استحکام سے متعلق نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا بنیادی مسئلہ اپنی خواہشات اور عملی صلاحیتوں میں توازن پیدا کرنا ہے، کیونکہ اس کی عالمی طاقت بننے اور جنوبی ایشیا میں علاقائی بالادستی حاصل کرنے کی خواہشات اس کی سیاسی اور عسکری صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور مکمل دفاعی ڈیٹرنس کی پالیسی نے بھارت کی روایتی عسکری برتری کے تاثر کو بڑی حد تک غیر مؤثر بنایا ہے۔

جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے آپریشن سندور کے بعد جنوبی ایشیا میں نئے معمول کی بات کی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب خطے کا نیا معمول پاکستان کی جانب سے متعین کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی روایتی اور جوہری دفاعی صلاحیتوں کے امتزاج نے ڈیٹرنس کا استحکام یقینی بنایا اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کی فضائی برتری قائم کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے سیاسی، جغرافیائی اور معاشی تحفظ کے نام نہاد محفوظ حصار کو پاکستان کی طویل فاصلے تک پہنچ رکھنے والی اسٹریٹجک صلاحیت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مئی 2025 کے بحران سے حاصل ہونے والے اسباق کی روشنی میں پاکستان کی روایتی دفاعی جوابی حکمت عملی کو کوئڈ پرو کو پلس سے کوئڈ پرو کو پلس پلس تک بڑھانے کا وقت آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت آئندہ کسی مہم جوئی کا راستہ اختیار کرے تو پاکستان کا جواب ایسا مؤثر اور فیصلہ کن ہونا چاہیے کہ بھارت کی جانب سے داخلی انتخابی مقاصد کے لیے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی حکمت عملی ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے۔

سابق سفیر مصطفیٰ کمال کازی نے کہا کہ کتاب مارکہ حق میں پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے بھارت کی دیرینہ پالیسیوں اور چیلنجز کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ مئی 2025 کی چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی قابل اعتماد دفاعی صلاحیت، آپریشنل عزم اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نمایاں رہی۔ انہوں نے بھارت میں جمہوری اقدار کے زوال اور ہندوتوا کے نظریاتی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی طاقت بننے کے بھارتی دعوے پر بھی سوالات اٹھائے۔

جامعہ میرپورخاص کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد میمن نے کہا کہ کشمیر اور بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جنوبی ایشیا میں دو بڑے جوہری فلیش پوائنٹس ہیں۔ انہوں نے پاکستان، کینیڈا اور امریکا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارتی ریاستی عناصر کے مبینہ ملوث ہونے کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور کے جواب میں پاکستان نے ایسا بھرپور ردعمل دیا جس سے صرف چار روز میں جنوبی ایشیا میں روایتی عسکری طاقت کا توازن تبدیل ہوا۔

ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعید منہاس نے کہا کہ یہ کتاب جنوبی ایشیا میں بھارت کی جارحانہ عسکری اور اسٹریٹجک پالیسیوں کے باعث پیدا ہونے والے غیر مستحکم سلامتی کے توازن کا جواب ہے۔ اس میں فروری 2019 کے بالاکوٹ بحران اور مئی 2025 کی مارکہ حق سمیت مختلف بحرانوں کے تناظر میں ڈیٹرنس برقرار رکھنے، اسٹریٹجک تحمل اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے تقاضوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی استقامت لامحدود ہے، تاہم اس کا اسٹریٹجک تحمل لامحدود نہیں۔

جامعہ سندھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کتاب کے مندرجات اور مصنفین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کتاب نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام، ڈیٹرنس اور سلامتی سے متعلق علمی مباحث میں اہم اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے بالادستی کے عزائم نے اس کے ہمسایہ ممالک کو اس سے دور کیا، سارک کو غیر فعال بنانے میں کردار ادا کیا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے اقدامات نے خطے میں تشویش پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت کی مخالفانہ پالیسیوں نے بھارت کو خطے اور عالمی سطح پر تنہائی سے دوچار کیا ہے۔

مہمان خصوصی سابق سینیٹر اور وفاقی وزیر جاوید جبار نے کہا کہ پاکستان کی قومی قیادت کے اسٹریٹجک وژن اور مسلح افواج کی کارکردگی نے مارکہ حق میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مسلح افواج ممکنہ جنگ کے لیے خاموشی سے تیاری کر رہی تھیں اور انہوں نے بھارت، عالمی برادری اور پاکستانی عوام کو بھرپور جوابی کارروائی سے حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ چار روزہ جنگ میں پاکستان کی کامیابی اور بھارت کی شکست کے اثرات صرف پاک بھارت تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ اس کتاب کا پیغام عالمی سطح پر پہنچانے کی ضرورت ہے۔

جاوید جبار نے تجویز دی کہ کتاب کو دنیا کی دیگر بڑی زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جائے تاکہ اس میں پیش کیے گئے تجزیے اور پیغام کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 25 کروڑ آبادی رکھنے والے پاکستان نے اپنی قوت ارادی اور دفاعی صلاحیت کے ذریعے چھ گنا بڑی آبادی، وسیع تر فوجی قوت اور معیشت رکھنے والے بھارت کا مقابلہ کیا۔

تقریب کے آغاز میں ریکٹر MiTE پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی نے کتاب کے مدیر اور معاون مصنفین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مصنفین نے مئی 2025 کی مارکہ حق کے حوالے سے متنوع آرا، تجزیوں اور حقائق کو یکجا کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کتاب محققین، پالیسی سازوں، دفاعی ماہرین، طلبہ اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم علمی حوالہ ثابت ہوگی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles