مشیر اطلاعات و نشریات ثمر ہارون بلور نے خیبر پختونخوا کے مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) ڈیپارٹمنٹ میں اربوں روپے کی کرپشن کا افشا کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے بے ضابطگیوں پر 2 بڑے ٹھیکے منسوخ کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ثمر ہارون بلور کی جانب سے سامنے لائی جانے والی تفصیلات کے مطابق سی اینڈ ڈبلیو ہائی وے ڈویژن خیبر کے تحت دیے گئے 2 اہم ترقیاتی ٹھیکوں میں بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے ہیں۔
ان الزامات کی زد میں آفریدی برادران، سہیل آفریدی اور ان کے بھائی سمیت رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) عبدالغنی آئے ہیں، جن پر اربوں روپے کے فنڈز اور ٹھیکوں کی آپس میں بندر بانٹ کا الزام ہے۔
مبینہ طور پر ان منصوبوں میں من پسند ٹھیکیداروں کو ریلیف دینے کے بدلے کروڑوں روپے کی رقم تحائف اور اٹیڈوانس ادائیگیوں کی صورت میں وصول کی گئی۔
صوبائی ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے کوڈز 261207 اور 261163 کے تحت جاری فنڈز میں سنگین بے ضابطگیاں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جس پر موجودہ صوبائی حکومت نے دونوں ٹھیکوں کو باقاعدہ منسوخ کر کے واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کے اوڈرز جاری کر دیے ہیں۔
اپوزیشن کا ردِعمل اور مزید شعبوں میں انکوائری کے اشارے
ثمر ہارون بلور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں موقف اختیار کیا کہ ان صرف دو منصوبوں کے ریکارڈ کا جائزہ لینے سے ہی یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی سوچ اور نعروں کے نام پر قائم ہونے والی صوبائی حکومت نے کس طرح عوامی ٹیکسوں کے فنڈز کو ذاتی مفادات اور سیاسی نوازشات کی نذر کیا۔
یہ بھی پڑھیں:
انہوں نے مزید اشارہ دیا کہ یہ انکشافات محض ایک شروعات ہیں، کیونکہ سی اینڈ ڈبلیو سمیت صوبے کے متعدد دیگر سرکاری محکموں کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال بھی جاری ہے۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں صوبائی انتظامیہ اور محکموں میں کرپشن کی مزید سنسنی خیز داستانیں اور حقائق منظرِ عام پر آئیں گے۔
خیبر پختونخوا میں ترقیاتی فنڈز اور طرزِ حکمرانی
خیبر پختونخوا کے شعبہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو ہمیشہ سے صوبے کے انفراسٹرکچر کی بحالی اور سڑکوں کے جال کو پھیلانے کا سب سے اہم ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم، پچھلے کچھ عرصے سے مختلف ترقیاتی فنڈز کی تخصیص اور ان کے شفاف استعمال پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
اے ڈی پی کوڈز کا استعمال صوبائی مالیاتی ڈھانچے میں مخصوص منصوبوں کو بجٹ فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جہاں مبینہ طور پر ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر فرنٹ لوڈنگ یعنی کام کی شروعات میں ہی زیادہ رقم جاری کروانا ایک بڑا انتظامی مسئلہ بن چکا ہے۔
موجودہ کیس میں حکومت کی جانب سے ٹھیکوں کی منسوخی یہ واضح کرتی ہے کہ محکمے کے اندر اندرونی گڑبڑ اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اسے چھپانا ممکن نہیں رہا۔
ترقیاتی منصوبوں میں سیاسی مداخلت اور من پسند افراد کو ٹھیکوں کی فراہمی صوبائی ترقی کے راستے میں ہمیشہ سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔
جب حکمران پارٹی کی سطح پر کرپشن کے خلاف بیانیہ اپنایا گیا ہو اور اسی صوبے میں اربوں کے ٹھیکوں کی منسوخی اور بے ضابطگیاں سامنے آئیں تو اس سے نہ صرف حکومتی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی منصوبوں کی تاخیر سے عام شہری کا نقصان ہوتا ہے۔
سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کی جاری تحقیقات کو محض دو منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے شفاف اور آزادانہ انکوائری کے ذریعے تمام مبینہ کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
اگر تمام صوبائی محکموں کی شفاف آڈٹنگ کی جائے تو اس سے ادارے میں پائیدار اصلاحات ممکن ہوں گی، بصورتِ دیگر عوامی فنڈز کے ضیاع اور الزامات کی یہ سیاست ختم نہیں ہو سکے گی۔
