پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے بلیو ورلڈ کنسورشیم کی 10 ارب روپے کی بولی منسوخ کر دی گئی ہے۔
نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق اب پی آئی اے کو قطر یا ابوظہبی کی حکومت کو گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی) معاہدے کے تحت فروخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ چونکہ مقامی بڈرز سے پی آئی اے کی فروخت ممکن نہیں ہو سکی، اس لیے 30 نومبر تک قطر یا ابوظہبی سے اظہار دلچسپی کے لیے درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قطر یا ابوظہبی کو پی آئی اے کی فروخت میں بیشتر شرائط اور معاہدوں کی تفصیلات پہلے سے طے شدہ ہو سکتی ہیں۔اس سے قبل بلیو ورلڈ کنسورشیم نے پی آئی اے کے حصص خریدنے کے لیے 10 ارب روپے کی بولی دی تھی، تاہم اب اس بولی کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
پی آئی اے کے کتنے حصص غیر ملکی حکومتوں کو فروخت کیے جائیں گے، اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا جا سکا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔