پاکستان بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ترسیل کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 2,500 غیر قانونی پیٹرول پمپس سیل کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعظم ‘شہباز شریف’ کی زیر صدارت ‘ایف بی آر’ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ان پمپس کی نشاندہی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم فراہم کر دیا گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت ‘اسلام آباد’ میں وزیراعظم ‘شہباز شریف’ کی زیر صدارت ‘فیڈرل بورڈ آف ریونیو’ (‘ایف بی آر’) اصلاحات پر ہفتہ وار اجلاس منعقد ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا گیا ، پیٹرول50 پیسے،ڈیزل19 پیسے سستا
اس اہم اجلاس میں ملکی معیشت کی بحالی اور ٹیکس چوری روکنے کے حوالے سے اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں پیٹرولیم سیکٹر سے جڑے مافیا کے خلاف بڑی کامیابیوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔
جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسمگلرز کے خلاف کارروائی
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلیک مارکیٹنگ اور غیر قانونی ترسیل کے خلاف بھرپور ایکشن لیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل آلات کا سہارا لیتے ہوئے 2,500 غیر قانونی پیٹرول پمپس کی نشاندہی کر کے انہیں مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں ان غیر قانونی پمپس کو چلانے والے مالکان اور آپریٹرز کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
نقل و حرکت روکنے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام کی تنصیب
حکومت کی جانب سے تیل کی اسمگلنگ کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کئی جدید ڈیجیٹل اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ اب ملک میں کام کرنے والے تمام قانونی پیٹرول پمپس کی ‘جی آئی ایس’ ٹیگنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والی گاڑیوں کی ‘جی پی ایس’ ٹریکنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے ‘آئل مارکیٹنگ کمپنیوں’ کے ‘انٹرپرائز ریسورس پلاننگ’ (‘ای آر پی’) سسٹم کو بھی براہ راست حکومتی ٹریکنگ سسٹم سے جوڑ دیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سینٹرل ایپ
اسمگلنگ کی فوری روک تھام اور کڑی نگرانی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک جدید ’سینٹرل ٹریکنگ ایپلی کیشن‘ بھی فراہم کر دی گئی ہے۔
اس ایپ کی مدد سے تیل کی کسی بھی غیر قانونی ترسیل کو فوری طور پر پکڑا جا سکے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے دائرے میں لانے اور سپلائی چین کو کنٹرول کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بار بار کیوں بدلتی ہیں؟ وزیر پیٹرولیم نے وجہ بتا دی
ان اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم ‘شہباز شریف’ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائیں اور ‘ایف بی آر’ اصلاحات کے عمل کو تیز کر کے ٹیکس وصولی کا نظام مضبوط بنائیں۔
‘پاکستان’ میں پڑوسی ممالک بالخصوص ‘ایران’ سے پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ کئی دہائیوں سے ملکی معیشت کے لیے ایک ناسور بنی ہوئی ہے۔
غیر قانونی ذرائع سے ملک بھر میں پہنچنے والا یہ تیل سستے داموں بیچا جاتا تھا، جس سے قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کے ریونیو کا نقصان برداشت کرنا پڑتا تھا۔
ماضی میں کئی بار ان اسمگلرز کے خلاف مہم چلائی گئی، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور مؤثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ نیٹ ورک کچھ عرصے بعد دوبارہ متحرک ہو جاتا تھا۔
حالیہ معاشی بحران کے دوران ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے اور بلیک اکانومی کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر یہ ڈیجیٹل اور بڑے پیمانے کا آپریشن ناگزیر ہو چکا تھا۔
اس حکومتی اقدام کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ معاشی بحالی اور دستاویزی معیشت کی جانب ایک انتہائی مثبت اور ٹھوس قدم محسوس ہوتا ہے۔
ایک ہی وقت میں 2,500 پمپس کی بندش محض ایک انتظامی کارروائی نہیں، بلکہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر بڑے سے بڑے مافیا کو بھی نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں تیل سستا، کیا پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمتیں کم ہوں گی؟


