آئی ایم ایف کی جانب سے نئے مطالبات سامنے آ گئے

آئی ایم ایف کی جانب سے نئے مطالبات سامنے آ گئے

آئی ایم ایف کی جانب سے نئے مطالبات سامنے آ گئے۔

آئی ایم ایف کنٹری سٹاف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پائیدار نمو کیلئے گورننس اور سرکاری اداروں کا انتظام مضبوط بنانا ضروری ہے، رپورٹ میں کہا کہ گورننس ڈائگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر ہوئی ہے۔

رپورٹ کی متوقع تاریخ اگست 2025 ہے، گورننس ڈائگناسٹک اسیسمنٹ سفارشات پر عمل درآمد کا ایکشن پلان اکتوبر 2025 تک متوقع ہے، آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثہ جات کے اعلان میں تاخیر ہوئی ہے۔

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ جون 2025 تک اعلی سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے لائی جائیں، یو این سی اے سی جائزہ رپورٹ کی اشاعت کابینہ کی تشخیص کے بعد ہوگی، مطالبہ کیا گیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ/سی ایف ٹی کیلئے بینکوں کی اثاثہ جات تک رسائی میں اضافہ ممکن بنایا جائے۔

آئندہ مالی سال پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر17ارب ڈالر سے زائد رہنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف

صوبائی اینٹی کرپشن کو مالیاتی انٹیلی جنس تک رسائی کا اختیار دیا جائے گا، آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ جون 2025 تک تمام سرکاری اداروں کو ایس او ای ایکٹ کے تحت لانا ضروری ہے، ساورن ویلتھ فنڈ کا آپریشن حکمرانی کے تحفظات کے بعد مشروط ہے۔ ساورن ویلتھ فنڈ ایکٹ میں ترامیم متوقع ہیں۔

سرکاری اداروں میں شفافیت اور گورننس کا نظام بہتر بنانا ضروری ہے، تمام سرکاری اداروں کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے شائع کیے جائیں، اکثریتی آزاد بورڈز کا قیام تیز کیا جائے، آئی ایم ایف نے کہا کہ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ رپورٹنگ نظام کو بہتر بنائے۔

گندم کی خریداری میں حکومتی مداخلت نہ ہونے سے صارفین کو فائدہ پہنچے گا، آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق گندم کے لیے نئے فوڈ سکیورٹی فریم ورک پر کام جاری ہے، دیگر زرعی اجناس کی مارکیٹوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف کے نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں، نئی قومی ٹیرف پالیسی (مالی سال 25-30) پر عمل درآمد تیز کیا جائے، آٹوموبائل پالیسی پر مشاورت جاری ہے، ٹیرف میں کمی متوقع ہے۔

استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر پابندی جولائی 2025 تک ختم کی جائے، آئی ایم ایف رپورٹ میں مزید یہ کہا گیا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں غیر مؤثر مراعات ختم کی جائیں، میکرو اکنامک اعدادوشمار کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں، اہم سرویز کے نتائج دسمبر تک شائع کیے جائیں گے، نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس کے لیے ماہانہ ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔

editor

Related Articles