پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں حوثی حملے فوری روکنے کا مطالبہ، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعادہ

پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں حوثی حملے فوری روکنے کا مطالبہ، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعادہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باب المندب اور بحیرہِ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ خطے میں کسی بڑے معاشی اور دفاعی بحران سے بچا جا سکے۔

بحرین کے وزیرِ خارجہ عبداللطیف بن راشد الزایانی کی صدارت میں منعقدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں باب المندب کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں حوثی حملے فوری روکنے کا مطالبہ، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعادہ

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے بریفنگ میں بتایا کہ یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی اور بحیرہِ احمر کے جزائر پر قبضے سے حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری حدود میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی کو ناگزیر قرار دیا۔

سعودی عرب کی دفاعی سلامتی اور پاکستان کا مؤقف

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے اشتعال انگیز اقدامات سے عالمی بحری سلامتی اور علاقائی امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر حوثی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی ’غیر متزلزل حمایت‘ اور کامل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

سعودی عرب کے مندوب عبدالعزیز الواصل نے خبردار کیا کہ حوثی ملیشیا ’آبناؤوں کا گلا گھونٹنے‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین یرغمال بن رہی ہے۔ 

بحرینی مندوب جمال فارس الرويعی اور چینی نمائندے سن لی نے بھی تجارتی راستوں کی بندش پر تشویش جتاتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لوٹنے کی تاکید کی۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘

باب المندب کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بھی تجارتی بحران نے عالمی مارکیٹ میں ایندھن اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں سنسنی خیز اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کا 1 بٹا 3 خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

مزید پڑھیں:اقوام متحدہ میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف، حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کا اعلان

اس تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار خاصا اہم رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے ایک فعال ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کیا تھا، جس کا نتیجہ تاریخی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘کی صورت میں سامنے آیا۔

عالمی معیشت اور پاکستان کی ’میرین ڈپلومیسی‘

تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہِ احمر اور آبنائے ہرمز صرف جغرافیائی پانی نہیں بلکہ عالمی معاشی شریانیں ہیں۔ اگر ان راستوں پر بدامنی برقرار رہتی ہے تو اس کا اثر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا بھر میں افراطِ زر کا ایک نیا طوفان جنم لے سکتا ہے۔

پاکستان کا ایک طرف سعودی عرب کی مکمل دفاعی حمایت کرنا اور دوسری جانب امریکا و ایران جیسے بڑے فریقین کے درمیان کامیا ب ثالثی کرنا، اسلام آباد کی متوازن اور بااثر سفارت کاری کا ثبوت ہے۔

پاکستان کی یہ کاؤشیں نہ صرف اس کے اپنے معاشی مفادات سے جڑی ہیں بلکہ خطے کو ایک بڑے ہمہ گیر تصادم سے بچانے کے لیے بھی انتہائی ضروری ہیں۔

Related Articles