خیبرپختونخوا، پنجاب میں بارشوں سے تباہی، 307 افراد جاں بحق، 23 زخمی، پی ڈی ایم اے کی ابتدائی رپورٹ جاری

خیبرپختونخوا، پنجاب میں بارشوں سے تباہی، 307 افراد جاں بحق، 23 زخمی، پی ڈی ایم اے کی ابتدائی رپورٹ جاری

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا اور پنجاب نے حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں سے 307 افراد جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں:شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے پاکستان میں 250 سے زیادہ افراد جاں بحق، سینکڑوں گھر اور املاک تباہ، سوگ کا اعلان

خیبر پختونخوا پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 279 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 17 مرد، 4 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔ سیلاب اور بارشوں سے 74 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 63 گھر جزوی طور پر اور 11 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر ہے جہاں اب تک 184 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں سوات، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں۔ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث بونیر، باجوڑ اور بٹگرام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایات پر متاثرہ اضلاع کے لیے امدادی فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں اور متعلقہ اداروں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں تعینات فوج سیلاب سے متاثر عوام کی بحالی میں بھرپور مدد کرے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات

پی ڈی ایم اے کی امدادی ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے، موسمی صورتحال اور امدادی معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

پنجاب کے دریا بھی خطرے میں، سیلابی صورتحال میں اضافہ

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر درمیانے درجے جبکہ تربیلا اور تونسہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 68 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دریائے جہلم اور دریائے چناب کے اہم مقامات پر بہاؤ معمول پر ہے تاہم نالہ پلکھو کینٹ اور نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ تربیلا ڈیم 98 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 68 فیصد بھر چکا ہے۔ تربیلا کا موجودہ لیول 1547.94 فٹ اور منگلا کا 1211.15 فٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں تعینات فوج سیلاب سے متاثر عوام کی بحالی میں بھرپور مدد کرے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات

پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ دریاؤں کے پاٹ میں رہنے والے شہری فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورت میں ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ سیلابی صورتحال میں دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں میں نہانے سے گریز کریں اور بچوں کو ان کے قریب نہ جانے دیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب اور خیبرپختونخوا دونوں صوبوں میں متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح قرار دے چکے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *