حکومت سندھ نے دیوالی کے پُرمسرت موقع پر صوبے بھر میں ہندو برادری کے لیے دو روزہ عام تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔
اس سال دیوالی کی تقریبات کو مزید آسان اور خوشگوار بنانے کے لیے 20 اکتوبر بروز پیر اور 21 اکتوبر بروز منگل کو تعطیلات دی جائیں گی، یہ چھٹیاں صرف ہندو ملازمین کے لیے ہوں گی جو سندھ کے سرکاری، نیم سرکاری اور خودمختار اداروں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، مقامی حکومتوں، میونسپل کارپوریشنز اور دیگر سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ہندو ملازمین کو بھی ان تعطیلات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ اقدام اقلیتی برادری کے مذہبی جذبات کے احترام اور ان کے اہم تہواروں میں شرکت کو ممکن بنانے کی ایک کوشش ہے۔
دیوالی ہندو مذہب کا ایک اہم تہوار ہے جسے “روشنیوں کا تہوار” بھی کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر گھروں، مندروں اور گلیوں کو دیوں اور برقی قمقموں سے سجایا جاتا ہے۔
دیوالی کا تہوار عموماً خزاں کے موسم میں اکتوبر اور نومبر میں منایا جاتا ہے اور یہ ہندو کیلنڈر پر منبی ہے جو کہ چاند پر مبنی ہے لیکن شمسی کیلنڈر سے بھی ہم آہنگ کرنے کے لیے ہر تین سال میں دو ماہ کو ایک ماہ کے طور پر گنا جاتا ہے۔ اس جشن کی تاریخ ہر سال مختلف ہوتی ہے۔
یہ جشن اب زیادہ تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے اور تقریباً پانچ دنوں تک جاری رہتا ہے جس میں ہر روز ایک خاص تقریب ہوتی ہے، ہندو کے علاوہ سکھ اور جین مذہب کے پیروکار بھی مناتے ہیں اور یہ ان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔
ہر سال سندھ میں دیوالی جوش و خروش سے منائی جاتی ہے، خاص طور پر تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپور خاص اور کراچی جیسے اضلاع میں، جہاں ہندو آبادی قابلِ ذکر تعداد میں مقیم ہے۔
دیوالی کے دن خاندانوں میں میل ملاقات، خصوصی پکوان، دعاؤں اور مذہبی رسومات کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو اس تہوار کو ایک خوبصورت ثقافتی روایت میں بدل دیتا ہے۔