خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے بنوں کے مغل کوٹ سیکٹر میں ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے دو انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں گروہ کا سرغنہ طارق کچھی اور اس کا قریبی ساتھی حکیم اللہ عرف ’ٹائیگر‘شامل ہ ہیں۔
دہشت گرد گروہ کا مؤثر خاتمہ
عسکری ذرائع کے مطابق طارق کچھی کا گروپ پچھلے 2 سالوں سے جنوبی خیبر پختونخوا میں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا، جس میں فورسز پر حملے، بھتہ خوری اور دہشتگردوں کو سرحد پار افغانستان سے پاکستان میں داخل کروانے جیسی سنگین کارروائیاں شامل تھیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ گروہ نہ صرف دہشتگردی بلکہ ’فتنہ الخوارج طالبان‘ کے لیے مالی معاونت اور سہولت کاری میں بھی سرگرم تھا۔ طارق کچھی افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردوں کی دراندازی کا کلیدی سہولت کار تھا۔
بھاری اسلحہ برآمد
کارروائی کے دوران علاقے کو مکمل گھیرے میں لے کر شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن کے اختتام پر ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو کسی بڑی تخریبی کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
مقامی آبادی کا اطمینان
مقامی ذرائع کے مطابق، دہشتگردوں کے خاتمے کے بعد علاقے میں خوف کی فضا کم ہوئی ہے اور عوام نے سیکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر اقدام کو سراہا ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ طارق کچھی اور اس کے ساتھیوں کی موجودگی سے علاقے میں کئی ماہ سے بدامنی اور خوف کا ماحول تھا۔
ریاست کا دو ٹوک پیغام
یہ کامیاب کارروائی نہ صرف علاقے میں امن و امان کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے، بلکہ دہشتگرد عناصر کے لیے یہ بھی ایک واضح پیغام ہے کہ ریاست پاکستان اپنی سرزمین پر کسی قسم کی تخریب کاری برداشت نہیں کرے گی۔
حکام نے یقین دلایا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا، اور ہر اُس ہاتھ کو کاٹ دیا جائے گا جو پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔