آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلہ سناتے ہوئے تھرڈ پارٹی ایکٹ 2021 کو بحال کر دیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اب تمام سرکاری محکموں، اداروں اور ذیلی تنظیموں میں گریڈ 7 سے اوپر کی تمام بھرتیاں تھرڈ پارٹی کے ذریعے، این ٹی ایس طرز پر کی جائیں گی۔
عدالت عالیہ مظفرآباد کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کا بنیادی مقصد شفافیت، میرٹ اور اہلیت کو فروغ دینا ہے تاکہ جانبداری، اقرباپروری اور سیاسی اثر و رسوخ کی گنجائش ختم ہو جائے۔ فیصلے کے مطابق، تمام محکمہ جات اور خودمختار ادارے آئندہ اپنی بھرتیوں کے لیے تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ سسٹم لازمی طور پر اختیار کریں گے۔ اس کے تحت امیدواروں کے تحریری امتحانات اور انٹرویوز غیر جانبدار ادارے کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ تھرڈ پارٹی ایکٹ 2021 آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے شفاف بھرتیوں کے لیے منظور کیا تھا، تاہم 2023 میں پی ٹی آئی حکومت نے اسے منسوخ کر دیا تھا۔ اس منسوخی کے بعد مختلف سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے طریقہ کار پر سوالات اور شکوک پیدا ہو گئے تھے۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ اس ایکٹ کی منسوخی سے میرٹ پر مبنی بھرتیوں کا عمل متاثر ہوا، لہٰذا شفافیت کی بحالی کے لیے اس قانون کو دوبارہ نافذ کرنا ناگزیر تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، اب آزاد کشمیر میں گریڈ 7 سے اوپر کی تمام پوسٹوں کے لیے تحریری امتحان اور میرٹ لسٹ لازمی قرار پائے گی۔ یہ اقدام نہ صرف امیدواروں کو برابری کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ سیاسی مداخلت، سفارش اور اقرباپروری کے دروازے بھی بند کر دے گا۔
سیاسی و سماجی حلقوں نے عدالت کے اس فیصلے کو شفافیت کی بحالی اور میرٹ کے فروغ کی سمت ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نوجوانوں میں اعتماد کی فضا بحال ہوگی اور سرکاری اداروں کی ساکھ مضبوط ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ بھی دیا تھا، جسے میرٹ کی بالادستی کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا گیا تھا۔ اب تھرڈ پارٹی ایکٹ کی بحالی کے بعد آزاد کشمیر میں سرکاری بھرتیوں کا نیا اور شفاف دور شروع ہونے جا رہا ہے۔