وفاقی آئینی عدالت کے قیام کیلئے نئی آسامیوں کی منظوری، نوٹیفکیشن جاری

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کیلئے نئی آسامیوں کی منظوری، نوٹیفکیشن جاری

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سلسلے میں نئی آسامیوں کی منظوری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

آرٹیکل 208 میں ترمیم کے بعد چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت نے نئی آسامیوں کی تخلیق کی ہدایت دی، جس کے تحت عدالت کے انتظامی و عدالتی ڈھانچے کو فعال بنانے کے لیے کئی اعلیٰ اور کلریکل عہدوں کی منظوری دی گئی ہے۔

جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے لیے متعدد اعلیٰ عہدوں پر تقرری کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں رجسٹرار، سیکریٹری ٹو چیف جسٹس اور ایڈیشنل رجسٹرار شامل ہیں۔ اس ترمیم اور ہدایت کے بعد عدالت میں گریڈ 22 سے گریڈ 2 تک مجموعی طور پر 30 مختلف کیڈر کی نئی آسامیوں کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، جن کا مقصد عدالت کے ابتدائی ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال بنانا ہے۔

نئی ایجاد کی گئی آسامیوں میں ریسرچ آفیسرز، کورٹ ایسوسی ایٹس، اسسٹنٹس، لائبریرین اور جیوڈیشل اسٹاف کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو عدالتی امور کو مؤثر طریقے سے چلانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ کلریکل اسٹاف کی سطح پر یو ڈی سی، ایل ڈی سی، سینئر اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ کی متعدد آسامیوں کو بھی تخلیق کیا گیا ہے تاکہ انتظامی کاموں میں آسانی پیدا کی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی اپیلیوں سے متعلق بڑا فیصلہ

عدالتی عملے کے ساتھ ساتھ سپورٹ اسٹاف کی بھی خاصی تعداد شامل کی گئی ہے جن میں ڈرائیور، قاصد، نائب قاصد، مالی اور سویپر جیسی ضروری ذمہ داریوں والے عہدے بھی شامل ہیں۔ ان آسامیوں کا مقصد عدالت کے روزمرہ انتظامات اور سہولیات کو بہتر بنانا ہے تاکہ ادارے کا کام باآسانی اور مؤثر طریقے سے جاری رہ سکے۔

نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ ان تمام آسامیوں پر ہونے والے اخراجات مالی سال 2025-26 کے مختص بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔ نئی آسامیوں کے قیام کے اس فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت کے فعال آغاز کی سمت اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *