وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ دیا اور ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، گوگل کے نائب صدر برائے حکومتی امور و پبلک پالیسی ولسن وائٹ، امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور گوگل کی شراکت داری کے حوالے سے یہ ایک اہم دن ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور نئی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت گورننس سمیت مختلف شعبوں میں بڑی ڈیجیٹل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور ملک کی نوجوان آبادی پاکستان کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ایم او یو کے تحت گوگل 2026 میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا۔ ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق زیادہ طلب رکھنے والی تکنیکی مہارتیں حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
گوگل پاکستان میں کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گا تاکہ تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
طلبہ کو اے آئی ٹولز تک مفت رسائی
معاہدے کے تحت گوگل پاکستان بھر کے طلبہ کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ مجوزہ سہولت میں گوگل اے آئی پلس اور جیمینائی نوٹ بک تک ایک سال کی مفت رسائی شامل ہے۔
اس اقدام کا مقصد طلبہ کو تعلیم اور تحقیق میں معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا اور آئی ٹی برآمدات میں نوجوانوں کے کردار کو مضبوط کرنا ہے۔
اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس
پاکستان اور گوگل نے اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ مرکز میں پاکستانی نوجوانوں اور انسانی وسائل کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے گی۔
وزیراعظم کے ایف بی آر اصلاحاتی منصوبے کے تحت گوگل مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایف بی آر کی ڈیجیٹل تبدیلی میں معاونت کرے گا۔ اس تعاون کا مقصد عوامی خدمات کو جدید بنانا، حکومتی امور کو زیادہ مؤثر بنانا اور ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام کو مزید بہتر کرنا ہے۔
زراعت کے شعبے میں بھی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے ذریعے فصلوں کی نگرانی، پیداوار کا تخمینہ اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
ایس ایم ایز، ایپ ڈویلپرز اور گیمنگ انڈسٹری کے لیے تعاون
معاہدے کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں مدد فراہم کی جائے گی۔
پاکستان اور گوگل مقامی ایپ ڈویلپرز اور گیمنگ اسٹوڈیوز کی معاونت کے لیے بھی مل کر کام کریں گے، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل تجارت کے فروغ کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
آئی ٹی برآمدات بڑھانے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس
حکومت، گوگل اور اہم صنعتی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ ٹاسک فورس بھی قائم کی جائے گی۔ یہ فورس آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور نئے مواقع کی نشاندہی کرے گی۔
ٹاسک فورس ہارڈویئر مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی سروسز کے لیے سرمایہ کاری کے فریم ورک، عالمی منڈیوں تک رسائی، انسانی وسائل کی اپ اسکلنگ اور دیگر متعلقہ امور پر کام کرے گی۔
حکومت اور گوگل کے درمیان یہ شراکت داری پاکستان میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں، آئی ٹی برآمدات اور ٹیکنالوجی پر مبنی روزگار کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔