پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ، حکومت نے بڑا اجلاس طلب کرلیا

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق اہم معاملے پر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کا اجلاس آج طلب کرلیا ہے جس میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی کا معاملہ زیرِ غور آئے گا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں صرف پیٹرولیم ڈیلرز مارجن پر نظرثانی کا معاملہ شامل ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ڈیلرز کے حصے کو بڑھانے کی تجویز پر اقتصادی رابطہ کمیٹی حتمی فیصلہ کرے گی۔

اس وقت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر ڈیلرز مارجن 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیلرز کی جانب سے مارجن میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے بعد حکومت نے معاملہ ECC کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مارجن بڑھا تو صارفین پر کیا اثر ہوگا؟

ڈیلرز مارجن میں اضافے کی صورت میں اس اضافے کا اثر پیٹرولیم مصنوعات کے ریٹ پر پڑ سکتا ہے، تاہم کتنا اضافہ ہوگا اور اس کا صارفین پر براہِ راست کتنا بوجھ پڑے گا، اس کا فیصلہ ECC کے اجلاس میں ہوگا۔

یعنی فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی کوئی حتمی منظوری نہیں ہوئی، بلکہ ڈیلرز کے موجودہ مارجن پر نظرثانی کی تجویز زیرِ غور ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا کارنامہ، 22 سال بعد تاریخ بدل گئی

ڈیلرز مارجن کیا ہوتا ہے؟

پیٹرول پمپ پر فروخت ہونے والے ہر لیٹر پیٹرول یا ڈیزل کی قیمت میں ڈیلر کا ایک مقررہ حصہ شامل ہوتا ہے جسے ڈیلرز مارجن یا کمیشن کہا جاتا ہے۔ اسی رقم سے ڈیلر کو اپنے کاروباری اخراجات، عملے کی تنخواہوں، بجلی، زمین کے کرائے اور دیگر اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں ڈیلرز مارجن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، ٹیکسز، لیویز، درآمدی لاگت اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن پر ECC کے ذریعے نظرثانی ہوتی رہی ہے۔

فیصلہ آج ہوگا

ذرائع کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کے ڈیلرز مارجن میں فی لیٹر کتنا اضافہ کیا جائے گا۔ اس کا حتمی فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کرے گی۔

اگر مارجن میں اضافہ منظور کیا جاتا ہے تو اس کے بعد متعلقہ حکام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مجموعی حساب میں نئے مارجن کو شامل کریں گے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles