صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہر فرد کی عزت، مساوات اور انصاف کا تحفظ ریاست کی بنیادی ترجیح ہے۔
صدرِ مملکت نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مذہبِ اسلام انسانی وقار، احترامِ انسانیت اور مساوات کے اصولوں پر زور دیتا ہے جبکہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو بلا امتیاز بنیادی حقوق اور آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ قائدِ اعظم نے پاکستان کو ہم آہنگی، رواداری اور وقار کی بنیاد پر قائم ریاست کے طور پر تصور کیا تھا اور حکومت انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ کمزور اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے مزید مضبوط اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ خواتین، بچوں، اقلیتوں اور خصوصی افراد کو بااختیار بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
صدر نے معاشرے میں احترام، برداشت اور باہمی وقار کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ میں سول سوسائٹی، ریاستی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
آصف زرداری نے اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کا دن منانے پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا اور عوام پر زور دیا کہ وہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
صدر کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کو خوف، جبر اور امتیاز سے پاک زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی قومی کوششوں کو کامیاب فرمائے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن آج منایا جا رہا ہے
واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن آج منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں آگاہی دینا، اقدام کا جائزہ لینا اور مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے، یہ دن 1948ء میں اقوام متحدہ میں منظور کردہ انسانی حقوق کے ایسے شاندار عالمی منشور کی یاد دلاتا ہے جسے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کا نام دیا گیا۔
اس قرارداد کے دنیا بھر میں تقریباً 375 زبانوں اور لہجوں میں تراجم شائع کئے جا چکے ہیں جس کی بنیاد پر اس قرار داد کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تراجم کی حامل دستاویز کا اعزاز حاصل ہے۔
یہ قرارداد دوسری جنگ عظیم کے فوری بعد منظر عام پر آئی جس کی رو سے دنیا بھر میں پہلی بار ان تمام انسانی حقوق بارے اتفاق رائے پیدا کیا گیا جو ہر انسان کا بنیادی حق ہیں اور بلا امتیاز فراہم کئے جانے چاہئیں، اس قرارداد میں مجموعی طور پر 30 شقیں شامل کی گئی ہیں۔