آبنائے ہرمز پر ایران کا دوٹوک اعلان، کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے ،علی باقری

آبنائے ہرمز پر ایران کا دوٹوک اعلان، کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے ،علی باقری

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک فیصلہ کن اسٹریٹجک دباؤ کا ذریعہ ہے اور تہران اس معاملے پر اپنے مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔

علی باقری نے اپنے بیان میں امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وعدہ خلافی امریکی حکومت کی مستقل پالیسی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے منجمد اثاثے آزاد کرانے کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر کوئی عملی پیش رفت نہیں کی اور اپنے وعدوں سے پھر گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :مسلمان ایک ہوجائیں تو وہ ایک دوسرے کا دفاع کرسکتے ہیں، ایرانی صدر

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بھی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق امریکی بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کی تاہم ایرانی بحریہ نے انہیں روک کر معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا۔

علی باقری کا کہنا تھا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سمندری حدود کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز سے متعلق طے شدہ اصولوں پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی کی رسد کے لیے بھی انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے اسی لیے ایران اس سے متعلق اپنے مؤقف کو قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کا حصہ سمجھتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کا امریکی ایف 15طیارہ تباہ کرنے کا بڑا دعوی

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری نے واضح کیا کہ تہران مستقبل میں بھی کسی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دے گا جو ملکی خودمختاری، قومی سلامتی یا طے شدہ معاہدوں کے منافی ہو۔

editor

Related Articles